رسائی کے لنکس

انا ہزارے کی علامتی بھوک ہڑتال


انا ہزارے کی علامتی بھوک ہڑتال

انا ہزارے کی علامتی بھوک ہڑتال

بھارت میں بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے والے معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے انسداد بدعنوانی کے بل لوک پال میں پارلیمان کمیٹی کی سفارشات کے خلاف احتجاجاً اتوار کو نئی دہلی میں ایک روزہ علامتی بھوک ہڑتال کی۔

اُنھوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف اُن کی جنگ شروع ہوگئی ہے جس کا مقصد اپنے ملک کو بدعنوان عناصر سے بچانا ہے۔

چار ماہ قبل انا ہزارے کی بدعنوانی کے خلاف بارہ روزہ بھوک ہڑتال کے بعد بھارتی حکومت اس مسئلے پر توجہ دینے پر مجبور ہوگئی تھی اور اُس نے بدعنوانی کے انسداد کے لیے ایک قانون کا مسودہ بھی تیار کرلیا ہے جوتوقع ہے کہ اس ماہ پارلیمان میں پیش کیا جائےگا۔

لیکن انا ہزار نے ہزاروں افراد پر مشتمل اپنے حامیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیا بل غیر موزوں ہے۔ ’’اگر ایک موثر بل پارلیمان میں پیش نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ایک کمزور بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ہماری حمایت کے لیے باہر نکلنا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہزارے بھارت کے جمہوری نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں۔

حکمران کانگریس پارٹی کے ترجمان رشید علوی کہتے ہیں کہ قانون سازی کسی احتجاجی جلسے میں نہیں کی جاتی۔ ان کے بقول انا ہزارے کے خیالات سے سب آگاہ ہو چکے ہیں لیکن اب وہ ’’پارلیمان کی توہین‘‘ کررہے ہیں۔

بھارت میں حالیہ دنوں میں بدعنوانی کے کئی اہم اسکینڈل منظر عام پر آئے ہیں۔ سیاست دان، سرکاری ملازمین اور کاروباری افراد سب پر ہی الزام ہے کہ بدعنوانی کے ذریعے انھوں نے ریاست کے اربوں ڈالرز ہڑپ کیے ہیں۔ ان اسکینڈلوں کی وجہ سے حکومت وقت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG