رسائی کے لنکس

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فضائیہ کے اڈے پر حملہ کرنے والے مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

بھارت کے علاقے پٹھان کوٹ میں ہفتہ کو علی الصبح کم از کم چار مسلح افراد نے فضائیہ کے اڈے پر حملہ کیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے فائرنگ کے تبادلے میں تمام حملہ آور مارے گئے۔

جھڑپ میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے اور حکام کے مطابق صورت حال اب اُن کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ پٹھان کوٹ کا علاقہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وردیاں پہن رکھی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ پٹھان کوٹ میں فضائیہ کا اڈہ بھارتی کشمیر کو جانے والی مرکزی شاہراہ کے قریب واقع ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تاحال حملہ آوروں کی شناخت معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بعض سکیورٹی حکام باور کرتے ہیں کہ حملہ آور جیش محمد نامی شدت پسند گروپ سے ہے جو کہ پاکستان میں موجود ہے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی آزادی کے لیے سرگرم ہے۔

بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے محتاط انداز میں ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم امن چاہتے ہیں، نہ صرف پاکستان کے ساتھ بلکہ اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بھی۔ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر دہشت گردی بھارتی سرزمین پر حملے کرتے ہیں تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔"

یہ حملہ ایسے وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا مختصر دورہ کیا، جسے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پٹھان کوٹ میں فضائیہ کے اڈے پر حملے کے بعد پورے بھارتی پنجاب میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

گزشتہ سال اگست میں بھارت کے علاقے گرداس پور میں پولیس اسٹیشن پر مسلح افراد کی طرف سے اسی نوعیت کے ایک حملے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

گرداس پور میں تقریباً بارہ گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد تین حملے مارے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG