رسائی کے لنکس

بھارتی طلبا آسٹریلیا جانے پر نظر ثانی کریں: بھارتی حکومت کا مشورہ

  • انجنا پسریجا

بھارتی طلبا پر ہونے والےحملوں کےتناظر میں بھارتی عہدے داروں نے تعلیم کے حصول کے لیے آسٹریلیا جانے والوں سے کہا ہے کہ وہ مختلف ترجیحات پر غور کریں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، سکے کی گھٹتی قیمت اورحملوں پر منفی رائے عامہ کے اظہارکےباعث دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔

تقریباً ایک دہائی کےعرصےکے دوران بھارتی طلبا میں آسٹریلیائی یونی ورسٹیوں کا بہت چرچا رہا ہے۔ اِس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2001ءکے مقابلے میں گذشتہ سال اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا جانے والوں کی تعداد دس ہزار سے 70ہزارہوگئی۔

لیکن آسٹریلیا میں بھارتی طلبا پر حملوں کے بارے میں منفی خبروں کی ترسیل کے بعد اِس سال صورتِ حال میں تبدیلی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

اِسی ہفتے حکومتِ بھارت نے سفری ہدایت نامہ جاری کرکے خبردار کیا ہے کہ آسٹریلیا میں بھارتی طلبا پر قاتلانہ حملوں میں اضافے کا خطرہ ہے۔ یہ اعلامیہ میلبرن میں ایک بھارتی طالب علم کو چھرا لگنے کے بعد فوت ہونے پر جاری کیا گیا۔ قتل کا یہ واقع حالیہ مہینوں میں آسٹریلیا میں بھارتی طلبا کے خلاف ہونے والے حملوں کے بعد سامنے آیا جسے بھارتی ابلاغِ عامہ نے نسلی بنیادوں پر ہونے والے حملے قرار دیا ہے۔

اِس الزام کو آسٹریلیائی عہدے داروں نے سختی سے مسترد کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ حملے خالصتاً مجرمانہ ہیں اور یہ کہ ملک غیر ملکی طلبا کے لیے محفوظ ہے۔

اِس معاملے پر بھارت میں تشویش کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔ وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے بھارتیوں پر زور دیا ہے کہ آسٹریلیا میں تعلیم کی ترجیحات پر غور کرتے وقت تمام معاملات کومدِ نظر رکھا جائے۔ اُن کے الفاظ میں: ‘میں بھارتی والدین کو مشورہ دوں گا کہ وہ محتاط رویہ اپنائیں، اورساری اطلاعات کوپیشِ نظر رکھیں۔ ’

بھارت کے تعلیمی مشیروں کے خیال میں آسٹریلیائی یونی ورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد میں خاصی کمی آئی ہے۔ اُنھوں نےطالب علموں پر ہونے والے حملوں کے علاوہ اصولوں کی انحرافی پر مائل تارکینِ ِ وطن سےمتعلق کارندوں اور کچھ نجی کالجوں میں غیر معیاری تدریس کے معاملے کی نشاندہی کی ہے۔

اِندر پنجوانی، نئی دہلی میں آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کرنے والوں کی انجمن کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب بہت ہی کم لوگ اطلاعات فراہم کرنے لگے ہیں:

’میرے خیال میں نفسیاتی ڈر کے باعث اب لوگ اطلاع دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ کسی طرح سے اعتماد کی سطح کو بڑھادیا جائے۔‘

آسٹریلیائی عہدے دار إِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ اُن کے ملک کی تعلیم کے میدان میں دو ارب ڈالرکی شراکت داری ہے جو متاثر ہوگی۔ لیکن اُن کے خیال میں یہ عالمی کساد بازاری اور آسٹریلیا میں رہائش پر اُٹھنے والے اخراجات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے، جس کی ایک وجہ آسٹریلیائی ڈالر کا مضبوط ہونا ہے۔

دنیا بھر کی غیر ملکی یونی ورسٹیاں تیزی سے بھارت کے متوسط طبقے کو اپنے طرف متوجہ کرنے کی خاطر تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بھارت میں اعلیٰ معیار کی یونی ورسٹیوں کی کمی کے باعث باہر کے ممالک جانے کے لیے سخت مقابلے کا ماحول ہے۔ یہاں کے طالب علموں کے لیے آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ معروف مقامات ہیں، جو ہر سال غیر ملکی تعلیم پرتقریباً سالانہ 13ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG