رسائی کے لنکس

بھارت میں بابری مسجد کا فیصلہ آنے سے قبل ہی خوف کا ماحول


بابری مسجد

بابری مسجد

چوبیس ستمبر بھارت کی تاریخ کا اہم ترین دن بنے جارہا ہے۔ 1992ء میں ایودھیہ میں مشتعل افراد کے ہاتھوں منہدم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کی اراضی ہندووٴں کی ملکیت تھی یا مسلمانوں کی ، اس بات کا عدالتی فیصلہ اسی دن سنایا جائے گا۔گوکہ فیصلہ آنے میں ابھی بھی دو دن باقی ہیں لیکن حکومتی ارکان سمیت پورے ملک میں خوف کا ساماحول ہے ۔

6دسمبر 1992ء بھی بھارتی تاریخ کا ایک ایسا ہی دن تھا جب مسجد مندر کے تنازع میں پورے بھارت میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوا ۔ تقسیم ہند کے بعد ہونے والے یہ بدترین فسادات تھے۔ فسادات کے فوری بعد بھارتی عدالت میں اراضی کی ملکیت کے تنازع پر مقدمہ دائر کردیا گیا ۔پچھلے اٹھارہ سال تک یہ مقدمہ عدالتوں میں چلتااور خبروں کی زینت بنتا رہا اور آخر کار آئندہ جمعے کواس کا فیصلہ ہونے جارہا ہے۔

اس معاملے کی حساسیت اور آنے والے فیصلے کے بعد پیداہونے والی صورتحال کو لے کر حکومت خاصی پریشان ہے اور ملک کا سیاسی پس منظر انہی خبروں سے جڑکر رہ گیا ہے۔ حکومت کے لئے یہ تنازع گلے کی ہڈی بن گیا ہے نہ نکلے بنتی ہے نہ اگلے۔مدعایہ ہے کہ عدالت جس مذہب کے حق میں بھی فیصلہ دے گی دوسری جانب سے رد عمل لازمی ہے اور اسی فکر نے حکمرانوں کو پریشانی میں ڈال رکھا ہے۔

سولہویں صدی میں قائم ہونے والی بابری مسجد کا معاملہ ملک کی سلامتی کے لئے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔بھارتی وزیر اعظم کے نزدیک کشمیر میں علیحدگی پسندی کی تحریک، ماوٴ باغیوں کی عسکری سرگرمیاں اور بابری مسجد مندر تنازع اس وقت سب سے بڑے سیکورٹی چیلنجز ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والا عدالتی فیصلہ کانگریس کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت کو نازک سیاسی صورتحال سے دوچار کرسکتا ہے۔خدشہ ہے کہ یہ فیصلہ کہیں بھارتی کے سیکولرازم کی جڑیں ہی نہ ہلا دے۔

کانگریس کو ایک خوف یہ بھی ہے کہ اگر فیصلہ ہندووٴں کے حق میں آتا ہے توایک طرف فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لئے حکومت پر دباوٴ بڑھ جائے گاتو دوسری جانب نہ صرف مسلمان اس کا برا منائیں گے بلکہ کانگریس مسلم ووٹ سے بھی ہمیشہ کے لئے محروم ہوسکتی ہے۔

اور اگر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں آیا تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ حکومت کو بابری مسجد کے مقام سے ہندووٴں کو دور رکھنے کے لئے تگ و دو کرنا پڑے گی۔ اس صورتحال میں بابری مسجد کی اراضیکانگریس کے لئے بارودسے بھرا میدان ثابت ہوگی۔

خود سپریم کورٹ کے لئے بھی اس معاملے سے نمٹنا ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ حتمی فیصلے میں ابھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔

بھارت میں اس وقت ہندووٴں کی آبادی اسی فیصد یعنی ایک ارب دس کروڑ سے زائد ہے جبکہ مسلمان آبادی کا تیرہ فیصد یعنی تیرہ کروڑ چالیس لاکھ ہیں۔ انڈونیشیا اور پاکستان کے بعدسب سے زیادہ مسلمان بھارت میں ہی بستے ہیں۔

ہندووٴں انتہاپسندوں نے ایودھیہ کی تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے دیوتا رام کی جنم بھومی (مقام پیدائش ) ہے ۔ اس اقدام کے نتیجے میں بھارت میں ہندو مسلم فسادات ہوئے جن میں دوہزار افرا د ہلاک ہوگئے تھے۔

عدالتی فیصلے کے اثرات سے بچنے کے لئے کانگریس سرکار نے ملک بھر کے اخبارات میں اشتہارات شائع کئے ہیں جن میں دونوں فریقین سے فیصلے کے بعدپر امن رہنے اور قانون ہاتھ میں نہ لینے کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ یہ اپیلیں اس حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ ملک میں اگلے ماہ سے کامن ویلتھ گیمز شروع ہورہے ہیں جن شرکت کے لئے ہزاروں افراد بھارت پہنچیں گے۔

اترپردیش کے حکام نے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا تے ہوئے بڑے پیمانے پر پولیس تعینات کردی ہے جبکہ اضافی جیلوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں 1992ء سے انتہاپسند سیاسی اثر و رسوخ رکھنے لگے ہیں اور عدالتی فیصلے سے ہندو قوم پرست سیاست مزید مضبوط ہوجائے گی ۔

دوسری جانب ہندووٴں کی قوم پرست حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس تاثر کی نفی کرنے میں مصروف ہے کہ وہ فرقہ ورانہ فسادات کوہوا دینے میں دیر نہیں کرے گی ۔

گزشتہ سال نومبر میں حکومت کی جانب سے ایک رپورٹ میں بی جے پی کے سرکردہ سیاستدانوں کو مسجد کے انہدام کا ذمے دار ٹھہرایا گیا تھا تاہم بی جے پی نے یہ رپورٹ مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں خوف ہنگامہ آرائی کی تھی جو حکومتی بلوں میں تاخیرکے ساتھ ساتھ حکومتی بینچوں سے خراب تعلقات کا باعث بھی بنی۔

XS
SM
MD
LG