رسائی کے لنکس

ڈھاکہ میں اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے اس معاہدے کو دیوارِ برلن کے گرنے سے تشبیہہ دیا۔

بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں کا تبادلہ کیا جائے گا جہاں کئی دہائیوں سے ہزاروں افراد محصور ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دو روزہ دورہ بنگلہ دیش کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان متعدد دیگر معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔

یہ دورہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کا مقصد جنوبی ایشیا میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا ہے۔

بھارتی رہنما کے ڈھاکہ دورے کی سب سے اہم پیشرفت ایک دوسرے کی سرحد میں واقع زمین کے ٹکڑوں کے تبادلے کے لیے معاہدے پر دستخط تھے۔

لگ بھگ 50 ہزار افراد کئی دہائیوں سے زمین کے 160 ٹکڑوں میں محصور ہیں۔

اب دونوں ممالک اپنی اپنی سرحد میں واقع ان علاقوں کا انتظام سنبھالیں گے اور ان کے مکینوں کو اپنا ملک چننے کی اجازت ہو گی۔

اس کے بعد وہ پہلی مرتبہ اسکول اور اسپتال جیسی عوامی سہولیات تک قانونی طور پر رسائی کر سکیں گے۔

ڈھاکہ میں اس معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے اس معاہدے کو دیوارِ برلن کے گرنے سے تشبیہہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے آزادی کے بعد سے جاری اس مسئلے کو حل کر دیا ہے۔ ہماری دو قوموں نے سرحد کے معاملے کو حل کر لیا ہے۔ اس سے ہماری سرحدیں زیادہ محفوظ ہوں گی اور ہمارے عوام کی زندگیاں زیادہ مستحکم ہوں گی۔‘‘

اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

اس معاہدے پر چار دہائیاں پہلے دونوں ممالک کے درمیان اتفاق ہوا تھا مگر نئی دہلی میں اسے رکاوٹ کا سامنا تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں ہونے والے تبادلے میں بھارت کو 10,000 ایکڑ کے قریب زمیں بنگلہ دیش کے حوالے کرنا ہے۔

اس معاہدے کو وزیرِ اعظم مودی کی سفارتی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ اس معاہدے پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا اور اسے پارلیمان سے منظور کروایا۔

مودی کے دو روزہ دورہ کے دوران بھارت اور بنگلہ دیش نے تجارت اور روابط بڑھانے کے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے بنگلہ دیش کو بھارت کے چار مشرقی شہروں سے ملانے کے لیے بس سروس شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ان پڑوسی ممالک کے درمیان سڑک کے ذریعے پہلا رابطہ ہو گا۔

خراب بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ روابط کے فقدان کے باعث جنوبی ایشیا اقتصادی لحاظ سے دنیا کا سب سے کم مربوط علاقہ ہے۔ مگر علاقے کے سب سے بڑے ملک بھارت کے وزیر اعظم اس صورتحال میں تبدیلی کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’میں بھارت کے شمال مشرقی ممالک کے لیے بھی اقتصادی راستے کھولوں گا اور اس سے ہم دونوں ممالک جنوبی ایشیا کو مربوط کر سکیں گے اور اسے متحرک مشرقی ممالک کے ساتھ جوڑ سکیں گے۔‘‘

گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ترجیحی بنیادوں پر جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دیا۔ اس کا ایک مقصد علاقے میں بھارت کے اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے جہاں چین اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے بندرگاہوں اور سڑکوں کی تعمیر اور فوجی سازوسامان کی فروخت کے ذریعے مسلسل اپنا دائرہ اثر وسیع کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG