رسائی کے لنکس

بھارتی کپاس کی برآمد پر پابندی پر برآمد کنندگان کی تشویش


بھارتی کپاس کی برآمد پر پابندی پر برآمد کنندگان کی تشویش

بھارتی کپاس کی برآمد پر پابندی پر برآمد کنندگان کی تشویش

بھارت میں ٹیکسٹائل انڈسٹری سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کپاس کی برآمد پر پابندی کے نتیجے میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس صنعت سے وابستہ افراد کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ بھارتی برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں۔

بھارتی حکومت کے خام کپاس کی برآمد روکنے کے حیران کن فیصلے کا مقصد مقامی منڈی میں اس کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کو سست کرناتھا، جو پچھلے سال اکتوبر سے 25 فی صد تک بڑھ چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی کپڑوں اور ٹیکسٹائل کی مقامی صنعت کو کپاس کی مناسب فراہمی کو بھی یقینی بنانا چاہتی ہے۔

کاٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صد ردھیرن سیٹھ کہتے ہیں کہ برآمدات کو معطل کرنے سے کپاس کے ایک مستند سپلائر کے طورپر ملک کا تاثر خراب ہوگا۔ بھارت دنیا بھر میں کپاس کے دوسرے سب سے بڑے برآمدکنندہ کے طورپر جاناجاتا ہے۔

دھیرن کہتے ہیں کہ ہم نے بھارتی کپاس کے برانڈ کا جوایک مقام بنایا تھا ،اسے نقصان پہنچ رہاہے۔ اب کپاس کے خریداروں کے ذہن میں ابہام پیدا ہوگیا ہے اور وہ بھارتی کپاس کے ساتھ منسلک غیریقینی صورت حال کے خطرے کے پیش نظر اسے مسترد کرسکتے ہیں۔

بھارتی کپاس کی برآمد کی اس معطلی سے پڑوسی ملک پاکستان اور بنگلہ دیش کی فروغ پاتی ہوئی کپڑوں کی برآمدی صنعتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ بھارت کے اس اقدام کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے پڑوسیوں کی اس شعبے میں مسابقت کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے جن ملکوں کی ٹیکسٹائل کا انحصار بھارتی کپاس پر ہے۔ اب وہ دوسرے ملکوں سے کپاس کی مناسب مقدار میں فراہمی کویقینی بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔

توفیق حسن بنگلہ دیش کی گارمنٹ مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ وہ کہتے ہیں اس صنعت کی امیدیں اب مغربی افریقہ سے وابستہ ہورہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے ماہ ہمارے پاس مغربی افریقہ سے ایک بڑا وفدآئے گا۔ ہم نے ان کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے کہ اگر ہم انہیں کچھ جگہ فراہم کردیں تو کیا وہ بنگلہ دیش میں اپنے کچھ گودام بنانے پر تیار ہوں تاکہ بوقت ضرورت ہم ان کی ترسیل میں مزید کسی التواکے بغیر کپاس حاصل کرسکیں۔

پاکستان کے برآمد کنند گان حکومت پر زور دے چکے ہیں کہ وہ بھارت سے ان معاہدوں کی پاس داری کرنے کے لیے کہیں جو پابندی کے نفاذ سے پہلے طے پاچکے تھے۔ پاکستان کپاس پیدا کرنے والا ایک بڑاملک ہے لیکن اسے ابھی بھی اپنی ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کپاس درآمد کرنی پڑتی ہے۔ برآمدکنندگان اس خلا کو پر کرنے کے لیے وسطی ایشیا، مغربی افریقہ اور امریکہ کا رخ کررہے ہیں۔

جنوبی ایشیا کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹ کی صنعتیں اپنے ملکوں کے لیے بڑی مقدار میں غیر ملکی زر مبادلہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کو روزگار بھی مہیا کرتی ہیں۔

بھارتی برآمدات کو معطل کیے جانے کے نتیجے میں وہاں کے کاشت کاروں کے لیے بھی غیر یقینی صورت حال پیدا ہوگئی ہے جو اگلے موسم کے لیے کپاس کی کاشت کرنے سے ممکن ہے کہ ہچکچاہٹ محسوس کریں۔ بھارت دنیا بھر میں کپاس پیدا کرنے والے ایک بڑے ملک کے طور پر اس وقت ابھر کر سامنے آیاتھا جب اس نے کپاس کی کاشت میں نئی جینیاتی اقسام کو متعارف کرایا تھا۔

XS
SM
MD
LG