رسائی کے لنکس

بھارتی ’سرٹیفی کیشن بورڈ‘ کے اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ اندھرا گاندھی کے سکھ محافظوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے؛ اور یہ کہ، فلم رلیز ہونے سے ’امن و امان‘ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

بھارت نے سابق وزیر اعظم اندھرا گاندھی کے قتل کےمعاملے پر بننے والی فلم کی رلیز پر پابندی لگادی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اِس میں اُن کے قاتلوں کو تعظیم کا مقام دیا گیا ہے، جس کے باعث عوام کی طرف سے تشدد پر مبنی احتجاج سامنے آسکتا ہے۔

بھارتی فلم بورڈ کے اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ اندھرا گاندھی کے سکھ محافظوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

’بورڈ‘ کی سربراہ، لیلہ سیمسن نے کہا ہے کہ پینل کے ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ فلم اس لیے رلیز نہیں ہوسکتی، کیونکہ اس سے ’امن و امان‘ کو خطرہ لاحق ہے۔

’قوم دے ہیرے‘ نامی فلم جمعے سے رلیز ہونے والی تھی۔

اِس میں مز گاندھی کے باڈی گارڈز کی کہانی بیان کی گئی ہے جنھوں نے 1984ء میں وزیر اعظم کو گولیاں چلا کر ہلاک کیا، جو بظاہر سکھوں کے خلاف کی گئی فوجی کارروائی کا بدلہ تھا۔

اس سے قبل، سنہ 1984میں مز گاندھی نے فوج کو امرتسر میں واقع سکھوں کے متبرک ترین مقام، ’گولڈن ٹیمپل‘ بھیجنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاکہ اُن شدت پسندوں کو باہر نکالا جائے جو وہاں چھپے بیٹھے ہیں، جو سکھوں کے ایک علیحدہ ملک کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ ’گولڈن ٹیمپل‘ پر کی جانےوالی اِس فوجی کارروائی کے نتیجے میں سینکڑوں سکھ ہلاک ہوئے۔

کچھ ہی ماہ بعد، مز گاندھی کے دو محافظوں نے اُن پر گولیاں چلاکر اُنھیں ہلاک کردیا، جس واقعے پر سکھ برادری کے خلاف تشدد کے واقعات سامنے آئے، جس میں تقریباً 3000افراد ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG