رسائی کے لنکس

نئی دہلی: دھماکے میں کم ازکم گیارہ افراد ہلاک


نئی دہلی: دھماکے میں کم ازکم گیارہ افراد ہلاک

نئی دہلی: دھماکے میں کم ازکم گیارہ افراد ہلاک

حکام کے مطابق ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے اِس بم دھماکے میں 50افراد زخمی ہوئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کی صبح ہونے والے بم دھماکےمیں کم ازکم گیارہ افراد ہلاک اور50 زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق، دھماکہ گیٹ نمبر پانچ کے قریب رسیپشن کے باہر ہوا جہاں 150افراد داخلہ پاس بنوانے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ فوری طور پر کوئی کچھ نہیں سمجھ سکا اور پھر چند ہی لمحوں کے بعد جائے واردات پر انسانی اعضاٴ بکھرے نظر آئے۔ دھماکے کی وجہ سے وہاں کئی فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔

مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے پارلیمنٹ میں ایک مختصر بیان دیتے ہوئے دھماکے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائی ہے۔ تاہم، ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اِس میں کس دہشت گرد گروپ کا ہاتھ ہے۔اُنھوں نے کہا کہ دھماکے کی تحقیقات قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے ذمے سونپی گئی ہے۔

اُن کے الفاظ میں قومی راجدھانی دہلی ہمیشہ سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں دہشت گردانہ کارروائیوں سے متعلق خفیہ اطلاعات پولیس کو فراہم کردی گئی تھیں۔بعد میں اُنھوں نے جائے واردات کادورہ بھی کیا۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جو دھماکے کے وقت ڈھاکہ میں تھے اِسے ایک ’بزدلانہ‘ کارروائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کے آگے نہیں جھکیں گے اور ہم سب مل کر اِس کا مقابلہ کریں گے۔

دریں اثنا، میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہشت گرد تنظیم حرکت الجہاد اسلامی نے پولیس کومبینہ طور پر ایک اِی میل ارسال کرکے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر پارلیمنٹ حملہ کیس میں مجرم قرار دیے گئے افضل گُرو کو پھانسی دی جاتی ہے تو ملک کی دیگر ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ میں بھی ایسے دھماکے کیے جائیں گے۔

لیکن، این آئی اے کے سربراہ ایس وِی سنہا نے کہا ہے کہ اگرچہ اِس اِی میل پیغام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم، ابھی اِس کی صداقت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

دھماکے کی جانچ کے لیے این آئی اے نے ایک ڈی آئی جی کی قیادت میں20رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔ پورے ملک میں ہائی الرٹ کا اعلان کردیا گیا ہے۔

گزشتہ مئی میں بھی ہائی کورٹ کی پارکنگ میں کم شدت کا ایک دھماکا ہواتھا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جب کہ جولائی میں بھارت کے اہم تجارتی مرکز ممبئی میں ہونے والے تین بم دھماکوں میں کم ازکم 25افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG