رسائی کے لنکس

برما کی حزب اختلاف کی لیڈر سوچی کا دورہ بھارت

  • انجانا پسریچا

برما کی حزبِ اختلاف کی لیڈر آنگ سان سوچی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ (فائل فوٹو)

برما کی حزبِ اختلاف کی لیڈر آنگ سان سوچی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ (فائل فوٹو)

1990ء کی دہائی کے وسط میں، بھارت نے پینترا بدلتے ہوئے برما کے فوجی حکمرانوں کے ساتھ پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔

برما کی حزبِ اختلاف کی لیڈر آنگ سان سوچی آج سے اپنا بھارت کا دورہ شروع کر رہی ہیں۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے حالیہ برسوں میں برما کی فوجی حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے اور یوں برما میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو مایوس کیا۔ اس دورے سے بھارت کو اس تنقید کا جواب دینے میں مدد ملے گی کہ اس نے برما میں جمہوریت کی واپسی میں مدد دینے کے وعدے کو بھلا دیا تھا۔

جمہوریت کے لیے جد و جہد کرنے والی آنگ سان سوچی بھارت کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ 50 سال قبل جب ان کی والدہ بھارت میں سفیر تھیں تو وہ نئی دہلی میں کالج میں پڑھ رہی تھیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ بھارت کے لیڈروں، مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

شروع میں جب برما کے فوجی حکمرانوں نے آنگ سان سوچی کو قید کیا تو دنیا کے ساتھ نئی دہلی نے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ لیکن 1990ء کی دہائی کے وسط میں، بھارت نے برما کے معاملے میں اپنا پینترا بدل دیا اور برما کے فوجی حکمرانوں کے ساتھ پینگیں بڑھانا شروع کر دیں۔

اور جب بھارت نے برما میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کرنا بند کر دی، تو برما میں جمہوریت کے لیے جدو جہد کرنے والوں نے نئی دہلی کو اپنے ملک میں جمہوری تبدیلی لانے کی ایک طاقت کے طور پر دیکھنا بند کر دیا۔

الانا گولمئی برما سینٹر، دہلی کے کو آرڈینیٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ماضی میں، جمہوریت کے حامی کارکنوں کو سخت مایوسی ہوئی تھی۔ بھارت بہت کچھ کر سکتا ہے اور اسے زیادہ سرگرمی سے مدد کرنی چاہیئے۔ ہمارے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہیں۔ کیا بھارت خلوص سے کام لے گا؟ کیا اس دورے کا کوئی نتیجہ نکلے گا؟‘‘

بھارت نے برما کی اسٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے اس کے فوجی لیڈروں سے تعلقات بڑھانے شروع کیے۔ برما تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جن کی بھارت کو ضرورت ہے۔ بھارت چین کا زور توڑنا چاہتا تھا۔ چین نے برما کی الگ تھلگ حکومت کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ نئی دہلی کو ان باغیوں پر قابو پانے کے لیے بھی برما کی ضرورت تھی جو شمال مشرق میں دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد پر سرگرم تھے۔

لیکن اب جب کہ برما سیاسی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، نئی دہلی جمہوریت کی تحریک کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے۔ مئی کے مہینے میں بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ برما کے دورے پر گئے اور وہاں آنگ سان سوچی سے ملے ۔ انھوں نے آنگ سان سوچی کو دعوت دی کہ وہ نئی دہلی میں بدھ کے روز جواہر لال نہرو میموریل لیکچر دیں جو ایک بڑا اعزاز ہے۔

بھارت کے پانچ روزہ دورے میں وہ چوٹی کی سیاسی لیڈروں سے بھی ملیں گی اور نئی دہلی میں برما کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ان کی مختصر سی میٹنگ ہوگی۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے ان کے دورے کو دو طرفہ تعلقات میں مزید مثبت پیش رفت کا موقع قرار دیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ یہ دورہ بھارت کی برما کے اعلیٰ سطح کے لیڈروں کی میزبانی کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

نی دہلی کے سینٹر فار پالیسی ریسرچ کے بھارت کرناڈ کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ بھارت توازن قائم رکھنے کی کوشش کرے گا۔ ان کے مطابق ’’اس دورے میں انتہائی گرمجوشی اور خلوص کا مظاہرہ کیا جائے گا، لیکن بھارتی حکومت آنگ سان سوچی کے اپنے سیاسی مستقبل یا ان کی پارٹی کے بارے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کرے گی ۔ میرے خیال میں بھارتی حکومت یہ خطرہ مول نہیں لے گی کہ برما کے جنرلوں کے ساتھ ایک بار پھر اس کے تعلقات کشیدہ ہو جائیں۔‘‘

تاہم، جمہوریت کے لیے جد و جہد کرنے والے برما کے کارکنوں کو امید ہے کہ آنگ سان سوچی کا دورہ محض ان کی ساکھ کی بحالی کے لیے نہیں ہو گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ سیاسی تبدیلی لانے کے طویل عمل میں، بھارت زیادہ سرگرمی سے برما کی مدد کرے۔

بھارت نے برما میں جمہوریت کے عمل میں مدد دینے، اس کی پارلیمینٹ کے ارکان کو تربیت دینے، اور انسانی حقوق کے قومی کمیشن جیسے اداروں کی صلاحیت کو فروغ دینے میں مدد کی پیش کش کی ہے۔

آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کے ایک سابق رکنِ پارلیمینٹ ، ٹنٹ سوی، 20 سال سے نئی دہلی میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس دورے سے امید کی کرن روشن ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’برما کی طرف بھارت کے رویے میں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ ہم بھارت سے بہترین چیزیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھارت کے ساتھ کاروبار، تجارت، سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے تو جمہوری تصورات ہیں۔ برما کے ساتھ بھارت کے کاروباری تعلقات زیادہ شفاف، اور برما کے لیے زیادہ ذمہ دارانہ ہونے چاہیئں۔ ہم بھارت سے اچھی تعلیم چاہتےہیں۔‘‘

یہ وہ پیغام ہے جو آنگ سان سوچی بھی بھارت کو دینا چاہتی ہیں۔ ان کے دورے سے ماضی کی یادیں بھی تازہ ہوں گی۔ وہ نئی دہلی میں اپنے پرانے کالج میں جائیں گی، جس کا شمار اب ملک کے اعلیٰ ترین اداروں میں ہوتا ہے۔ وہ بنگلور بھی جائیں گی جو بھارت کا انفارمیشن ٹکنالوجی کا مرکز ہے، اور وہ آندھرا پردیش کے دیہی علاقوں میں جائیں گی اور دیہی ترقی اور عورتوں کو با اختیار بنانے کے پروگراموں کا مشاہدہ کریں گی۔
XS
SM
MD
LG