رسائی کے لنکس

بھارتی مردم شماری: مسلمانوں کو سرگرمی سے حصہ لینے کی اپیل

  • پرویز حفیظ

مسلم تنظیموں نےبھارت کےمسلمانوں سےاپیل کی ہےکہ وہ ملک میں جاری مردم شماری میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں، اورہر مسلم شہری مردم شماری کے رجسٹر میں اپنے نام، تاریخِ پیدائش اور دیگر تفصیلات کےاندراج میں پوری دلچسپی لے۔

یکم اپریل سےملک میں پندرہویں قومی مردم شماری کا آغازہو چکا ہےجوایک سال سےزیادہ عرصےتک جاری رہے گا۔

وزیرِ داخلہ پی چدم برم نےدعویٰ کیا کہ تاریخِ انسانی میں پہلی بارکسی ملک کی حکومت کی جانب سےایک ارب سےزیادہ شہریوں کو شمار کرنے اور اُنھیں شناختی کارڈ مہیا کرنے کےمنصوبے پرعمل درآمد کیا جارہا ہے۔

اِس وقت بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب 20کروڑ ہےجِس میں سرکاری اعدادو شما ر کےمطابق مسلمانوں کی آبادی 13فی صد سےزیادہ ہے۔ چند ریاستیں، مثلاً جموں و کشمیر، آسام اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اور بھی زیادہ ہے۔

مسلم تنظیموں کا کہنا ہےکہ ماضی میں تعلیم کی کمی اوردیگر اسباب سےمسلمانوں نےمردم شماری کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ اِس لیے جماعتِ اسلامی اور جمعیت العلمائے ہند جیسی معتدل اہم تنظیموں نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ نئی مردم شماری میں اپنے اور اپنے خاندان کے اراکین کے ناموں کے اندراج میں کوئی کوتاہی نہ برتیں۔

جمعیت علمائے ہند کے فاروق رحمت کے بقول، آج جب ہر مسلمان پر دہشت گرد ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے، ہرمسلم شہری پر قومی شناختی کارڈ کا حصول لازم ہوگیا ہے، کیونکہ اُس کے بغیرمصائب کا سامنا نہیں ہو سکتا۔

بہت سی مسلم تنظیموں نے عام مسلم شہریوں کی آسانی کے لیے ہدایت نامے بھی شائع کرائے ہیں جِن میں مردم شماری سے متعلق ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ بہت سی تنظیموں نے رضاکاروں کے گروپ بھی بنائے ہیں جو مردم شماری کرنے والے سرکاری اہل کاروں اور مسلمانوں، خصوصاً غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مدد کریں گے۔

XS
SM
MD
LG