رسائی کے لنکس

بھارت میں بچپن کی شادیوں کے خلاف مہم


بھارت میں بچپن کی شادیوں کے خلاف مہم

بھارت میں بچپن کی شادیوں کے خلاف مہم

ایک معروف عالمی تنظیم ’ ایلڈرز‘ نے بھارت میں بچپن کی شادیوں کے رواج کے خلاف عوامی سطح پر مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے آرچ بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو نے، جو اس تنظیم کے سربراہ ہیں، جمعرات کو نئی دہلی میں یہ اعلان کیا کہ ان کی مہم ’بچیاں دلہنیں نہیں ہیں‘ بھارت میں ایک حقیقی مؤثر کردار ادا کرے گی۔

ان کا کہناتھا کہ عالمی منڈی میں بھارت ایک اہم معاشی قوت ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ذرا تصور کریں اگر یہاں عورتوں اور لڑکیوں کو آزادی دے دی جائے تو یہ ملک کتنی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

ایلڈرز ، ان سابق عالمی راہنماؤں کی تنظیم ہے جو ان اہم برائیوں کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں جن سے دنیا بھر میں انسانیت کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

آئرلینڈ کی پہلی خاتون صدر میری روبن سن کہتی ہیں کہ بچین کی شادیوں نے اس تنظیم کی توجہ اپنی جانب اس لیے مبذول کروائی ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر بڑی تعداد میں بچے اس کا شکار ہورہے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ بچین کی شادی کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔ یہ سالانہ ایک کروڑ بچیوں کا معاملہ ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں دس برسوں میں دس کروڑ بچیوں کی شادی خلاف معمول ان کی مرضی جانے بغیر ، بلکہ اکثر اوقات ان کے علم میں یہ لائے بغیر کردی جاتی ہے کہ ان کا جیون ساتھی کون ہوگا۔

بھارت میں گذشتہ کئی عشروں سے بچین کی شادی غیر قانونی ہے ، لیکن مطالیاتی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں ہر سال 18 برس سے کم جن کم عمر لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے ، ان میں سے ایک تہائی کاتعلق بھارت سے ہوتا ہے۔

بھارت میں 2006ء کے قومی سطح کی ایک جائزہ رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ 20 سے 24 سال کی شادی شدہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون کی شادی 15 برس کی عمر کو پہنچنے سے قبل کردی گئی تھی۔

بچین کی شادیوں کے بارے میں اکثر یہ کہاجاتا ہے کہ ان کاتعلق قبل از تاریخ کی مذہبی روایات سے ہے اور یہ چیز ذہنوں میں بیٹھ چکی ہے کہ لڑکیاں بوجھ ہوتی ہیں جنہیں جتنی جلدی ممکن ہو گھر سے رخصت کردینا چاہیے ۔

ایلا بھٹ ، جو بھارت میں تجارت پیشہ خواتین کی سب سے بڑی بھارتی تنظیم کی بانیوں میں شامل ہیں، کہتی ہیں کہ عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول میں بچپن کی شادیوں کے مسئلے کا حل ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ غربت کی طرح بچپن کی شادی بھی تشدد کی ایک قسم ہےاور یہ تشدد کی ایک ایسی قسم ہے جو معاشرے کی رضامندی کے ساتھ جاری ہے۔
’بچیاں دلہنیں نہیں ہوتیں‘ کے نام سے شروع کی جانے والی مہم نے 80 سے زیادہ ممالک میں عوامی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا ہے۔ ایلڈرز کا کہناہے کہ اس مہم کے ذریعے کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے تعلیم اور پارلیسیوں کے ذریعےمقامی کمیونیٹیز میں شعور بیدار کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG