رسائی کے لنکس

بھارت نے دفاعی وفود چین بھیجنے سے انکار کردیا


بھارت نے دفاعی وفود چین بھیجنے سے انکار کردیا

بھارت نے دفاعی وفود چین بھیجنے سے انکار کردیا

ہندوستانی حکام اور میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے پڑوسی ملک چین کے ساتھ دفاعی وفود کے تبادلوں کا عمل معطل کردیا گیا ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے یہ قدم وادی کشمیر کے ہندوستان کے زیرِانتظام علاقے میں فوجی آپریشنز کے نگران ایک جنرل کو چین کی جانب سے ویزا دینے سے انکار کے جواب میں اٹھایا ہے۔

اخبار کی رپورٹ کے مطابق لیفٹننٹ جنرل بی ایس جسوال دونوں ملکوں کے دفاعی حکام کے درمیان ہونے والے اعلٰی سطحی مذاکرات میں شرکت کے لیے چین جانے والے تھے تاہم میزبان ملک کی جانب سے انہیں یہ کہہ کر ویزا دینے سے انکار کردیا گیا کہ وہ چونکہ ایک متنازعہ علاقے میں فوجی آپریشنز کے نگران ہیں لہذا چین کی جانب سے انہیں اپنی سرزمین پہ خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔

کشمیر کا علاقہ انتظامی طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے تاہم دونوں ممالک اس کے کلی حیثیت میں اپنے ساتھ الحاق کے خواہشمند ہیں۔ جبکہ چین بھی متنازعہ خطے کے ایک حصے پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔

ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے چین کی جانب سے بھارتی جنرل کو ویزا جاری نہ کرنے کے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہندوستان بیجنگ کے ساتھ اپنے وفود کے تبادلے کو اہمیت دیتا ہے تاہم دونوں فریقین کو ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنا چاہیے"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے مذکورہ واقعے پر چین کے ساتھ بات چیت کی جارہی ہے۔

ہندوستان اور چین اس سال اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ ایک ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب دونوں ملکوں کی باہمی تجارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ تاہم سرحدی حد بندیوں اور دیگر تنازعات کے باعث تعلقات میں عدم اعتماد کی فضا پائی جاتی ہے۔

ہندوستان کے عام شہریوں کے برعکس اس کے زیرِ انتظام کشیر کے باشندوں کو چین میں داخلے کے لیے چینی حکام کی جانب سے ہندوستانی پاسپورٹ کے بجائے علیحدہ کاغذ پہ ویزا جاری کیا جاتا ہے ۔ چین کے اس عمل پر بھارت ماضی میں کئی بار اعتراض اٹھا چکا ہے اور بھارتی حکام کی جانب سے علیحدہ کاغذ پہ جاری کیے گئے ویزے کو قانونی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ دونوں ملکوں کے اس تنازعے کے باعث ہندوستانی کشمیر کے رہائشیوں کا چین میں داخلہ ناممکن ہوچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG