رسائی کے لنکس

یہ10 روزہ فوجی مشقیں مغربی بھارت کے شہر پونا میں ہوں گی، جن کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔۔۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق، دونوں فریق بغاوت اور دہشت گردی کے معاملات سے نبردآزما ہیں

دو ہی ماہ قبل، متنازع بھارت چین سرحد پر کشیدگی باہمی تعلقات میں تعطل کا باعث بنی۔ تب سے، دونوں ملکوں کے سینکڑوں فوجی منعقدہ اجلاس میں شرکت کر چکے ہیں۔ اب اتوار کے روز، دونوں ملک مل کر انسداد دہشت گردی سے متعلق فوجی مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

مشترکہ جنگی مشقوں میں شرکت کا فیصلہ بھارت چین تعلقات کی پیچیدگی کو بخوبی ظاہر کرتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شدید تنازعات کے باوجود، دونوں ملک اپنے اختلافات پر قابو پالیں گے اور باہمی استفادے کے منصوبے جاری رکھ سکیں گے۔

سری کانت کونڈاپلی، نئی دہلی میں قائم چین سے متعلق مطالعاتی انسٹی ٹیوٹ کے اعزازی فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ، چونکہ بھارت اور چین دہشت گردی کو ایک اہم خطرہ قرار دیتے ہیں، یہ بات اُن کے قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ وہ اِن مشقوں میں شریک ہوں۔

چین سخت گیر اسلام کو اپنی سلامتی کے لیےتشویش کا باعث سمجھتا ہے، خصوصی طور پر صوبہٴسنکیانگ کے معاملے پر، جہاں حالیہ برسوں کے دوران ہلاکت خیز ہلاکتیں واقع ہو چکی ہیں۔

چینی حکام کو اس بات پر بھی خدشات لاحق ہیں کہ چینی جنگجو داعش کے شدت پسند گروہ میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، جس کے خدشات طویل مدتی نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

سنہ 2004کی بات ہے جب اُس وقت کے صدر، ہو جِن تاؤ نے کہا تھا کہ، ’علیحدگی پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی۔۔۔ تینوں بدی کی طاقتیں ہیں‘، جن سے نمٹنا ضروری ہے۔

بھارت کو ایک مدت سے اسلام نواز شدت پسندی کا سامنا ہے۔ اب، اُس کے لیے، سرحد پار دہشت گردی قومی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج کی مانند ہے۔

یہ10 روزہ فوجی مشقیں مغربی بھارت کے شہر پونا میں ہوں گی، جن کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق، دونوں فریق بغاوت اور دہشت گردی کے معاملات سے نبردآزما ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) وسنتھا آر راگوان بھارت میں قائم تھنک ٹینک ’سینٹر فور سکیورٹی انالسز‘ کے صدر ہیں۔ بقول اُن کے، ماضی کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کو ہدف بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے، معاملات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

جس کے بعد، اُنھوں نے کہا کہ باہمی استفادے کی خاطر، دونوں ایک دسرے کے ساتھ اختیار کیے گئے اپنے انداز، طریقہٴکار اور تجربات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔

بھارت کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ انداز اور طرز عمل اپنانا دونوں ملکوں کو انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں مدد دے گا۔

یہ مشق کمپنی کی سطح پر ہوگی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر فریق کی طرف سے تقریبا ً 120 فوجی شرکت کریں گے۔ کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ یہ بہت ہی نچلی سطح کی ایک محدود شرکت ہے۔

رگوان اس بات کے قائل ہیں کہ بھارت امریکہ کے درمیان ماضی کی مشقوں کے مقابلے میں، یہ ایک بہت ہی کم سطح کی مشق ہے۔

تاریخی طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات شبہات کا شکار رہے ہیں، اِسی کے باعث وہ اِس مشق کے سطح کو محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ سنہ 1962 میں بھارت اور چین

متنازع سرحد اور دیگر اشوز کے معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان لڑائی کو چکی ہے۔

سنہ 2007سے اب تک، دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان یہ چوتھی مشترکہ تربیتی مشق ہے۔ سنہ2009 میں بھارت نے ایک جنرل کے ویزا کے معاملے پر چین کے ساتھ فوجی مشق سے انکار کردیا تھا۔

پانچ برس کے وقفے کے بعد، سنہ 2013میں یہ فوجی مشقیں دوبارہ شروع ہوئیں۔

بھارت کی عدم سلامتی

ولیم اینتھولس

Inside Out India and China: Local Politics Go Globalکتاب کے مصنف ہیں۔

بقول اُن کے، اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے، بھارت چین کے ساتھ بہتر معاشی تعلقات کا خواستگار ہے۔ لیکن، وہ کہتے ہیں کہ بھارت کو چینی عزائم پر شبہات لاحق ہیں۔

چینی صدر، ژی جِن پنگ نے ستمبر میں بھارت کا دورہ کیا، جس سے متعدد بھارتیوں پر یہ بات عیاں ہوئی کہ اُن کے شکوک و شبہات غلط نہیں۔

بھارتی اخبار ’دِی ہندو‘ میں شائع ہونے والے ایک اداریہ میں بتایا گیا ہے کہ اپنی آمد پر دیے گئے بیان میں، صدر ژی نے کہا تھا کہ’ چین بھارت تعلقات 21ویں صدی کے باکمال اورسودمند ترین تعلقات ہیں‘۔ تاہم، جب کہ وہ بھارتی رہنماؤں پر قربان جا رہے تھے اور باوقار معاشی ساجھے داری کا یقین دلا رہے تھے، سینکڑوں چینی فوجیوں نے ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول‘، جو دونوں ملکوں کے درمیان فی الواقع سرحد ہے، کو عبور کر لیا۔ پریشانی میں، بھارتی میڈیا نے اِسے چینی مداخلت قرار دیا تھا۔

ایک ماہ بعد، اس اقدام کا جواب دیتے ہوئے، بھارت نے سرحد کے ساتھ ساتھ متنازع خطے میں تقریباً 1800 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔

چین نے بھارت کے منصوبے پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا اور متنبہ کیا کہ اس سے سرحد کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔

چین کو، اپنے گرد حصار کھڑا کیے جانے کا خوف لاحق

چین کو یہ خدشہ ہے کہ بھارت کےامریکہ کےعلاوہ دیگر ایشیا پیسیفک ممالک کے ساتھ فروغ پاتے ہوئے تعلقات اُس کے لیے مسائل کھڑے کردیں گے۔

ستمبر میں، بھارت اور امریکہ نے بحیرہٴجنوبی چین کے معاملے کو اٹھایا، جہاں چین متعدد جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کے ساتھ علاقائی تنازعات میں الجھا ہوا ہے۔ یہ بات وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے دورے کے دوران جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہی گئی تھی۔

بیان میں تمام فریق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بحیرہٴجنوبی چین پر اپنے دعوے کے حق میں طاقت کا استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی سے احتراز کریں۔

اینتھولس، جنھوں نے اپنی کتاب کے سلسلے میں چین اور بھارت میں کئی شخصیات کے انٹرویو کیے، کہتے ہیں کہ چین میں متعدد افراد بڑھتے ہوئے امریکہ بھارت تعاون پر شاکی ہیں، اور خیال کرتے ہیں کہ یہ چین کے خلاف محاذ ہے۔

آئندہ کے تعلقات

تناؤ کے باوجود، زیادہ تر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ بھارت اور چین کسی بحران سے گریز کریں گے۔

تجزیہ کار خیال کرتے ہیں کہ چین کو معلوم ہے کہ یہ بات اُس کے اپنے مفاد میں ہے کہ ایسے میں جب وہ دنیا کے پلیٹ فارم پر آگے بڑھنا چاہتا ہے، اُس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لیے ایک پُرامن تاثر قائم کیے رکھے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر وہ اپنے ترقیاتی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُسے پُرامن ماحول برقرار رکھنا ہوگا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں، جو حقیقت اُنھیں کسی تنازع میں الجھنے سے باز رکھے گی۔

XS
SM
MD
LG