رسائی کے لنکس

اِن سمجھوتوں میں ریاستِ گجرات میں ایک صنعتی پارک قائم کرنے، گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد اور چین کے صوبہٴگوانگ ڈونگ کے دارلحکومت، گوانگ زُو کو ’جڑواں شہر‘ قرار دیا جانا شامل ہے

بھارت اور چین نے تین تجارتی سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں، جِن کا مقصد بھارت کی مغربی ریاست، گجرات میں چینی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

چینی صدر ژی جِن پِنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے بدھ کے روز اِن سمجھوتوں پر دستخط کیے، جس سے کچھ ہی دیر قبل مسٹر ژی بھارت کے سہ روزہ دورہ پر بھارت پہنچے ہیں۔ دورے کا مقصد ایشیا کے اِن دو طاقتور ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھاوا دینا ہے۔

اِن سمجھوتوں میں ریاستِ گجرات میں ایک صنعتی پارک قائم کرنے، گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد اور چین کے صوبہٴگوانگ ڈونگ کے دارلحکومت، گوانگ زُو کو ’جڑواں شہر‘ قرار دیا جانا شامل ہے۔

گجرات میں پہلے ہی مجموعی طور پر بہت ساری چینی سرمایہ کاری جاری ہے، جسے ملک کے ’سمارٹ سٹی‘ کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔

بھارتی حکام کو توقع ہے کہ چین زیادہ سرمایہ کاری کرے گا، تاکہ تجارتی عدم توازن کا مداویٰ ہوسکے، جس کا جھکاؤ اِس وقت چین کے حق میں ہے۔

مسٹر ژی کا بھارت کا یہ پہلا دورہ ہے۔ چینی صدر نے روزنامہ ’دِی ہندو‘ میں شائع ہونےوالے ایک مضمون میں کہا ہے کہ بھارت اور چین کے مابین مراسم اکیسویں صدی کے مثالی اور عہد آفریں نوعیت کا درجہ رکھتے ہیں۔

تاہم، چین بھارت تعلقات کو طویل مدت سے جاری ہمالیہ سرحد کے تنازعے اور دوسرے کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باعث دھچکا لگا ہوا ہے۔

مسٹر ژی جمعرات کو نئی دہلی میں بھارتی حکام سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل، اِسی ہفتے، وہ سری لنکا اور مالدیپ کا دورہ کرچکے ہیں، جو دونوں ہی بھارت کے روایتی اتحادی ہیں۔

XS
SM
MD
LG