رسائی کے لنکس

مولانا اظہر پر عالمی پابندی میں رکاوٹ پر بھارت کا چین سے احتجاج


مولانا مسعود اظہر۔ فائل فوٹو

پچھلے مہینے اقوام متحدہ میں فرانس اور برطانیہ نے مولانا اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن چین نے اس پر پیش رفت کو مؤثر طور پر روک دیا۔

انجنا پسریچا

بھارت نے اقوام متحدہ میں مولانا مسعود اظہر کا نام دهشت گردوں کی فہرست میں درج کرنے کی تجویز کا راستہ روکنے پر چین سے احتجاج کیا ہے۔

مولانا مسعود اظہر پاکستان میں قائم ایک عسکریت پسند گروپ جیش محمد کے سربراہ ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ چین نے اقوام متحدہ کی دهشت گردوں کی بلیک لسٹ میں مولانا اظہر کے نام کا اندراج روکنے کے لیے اپنا اختیار استعمال کیا۔ پچھلے سال بھی بیجنگ نے ایک ایسی ہی تجویز کا راستہ روکا تھا۔

پچھلے مہینے اقوام متحدہ میں فرانس اور برطانیہ نے مولانا اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن چین نے اس پر پیش رفت کو مؤثر طور پر روک دیا۔

نئی دہلی کی جواهر لعل یونیورسٹی میں چین سے متعلق أمور کے پروفیسر سری کانتھ کونداپالی کہتے ہیں کہ یہ صورت حال یقینی طور پر بھارت اور چین کے دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہوگی۔

چین نے اقوام متحدہ میں اپنے اس تازہ ترین اقدام کے دفاع میں کہا ہے کہ مولانا اظہر پر پابندی کی تجویز میں ان شرائط کو ابھی تک پورا نہیں کیا گیا، جو اس سلسلے میں درکار ہیں اور اس نے یہ قدم بین الاقوامی کمیونٹی کے اتفاق رائے کا راستہ ہموار کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ چین 15 رکنی سلامتی کونسل کا واحد رکن ہے جو اس تجویز کا راستہ روک رہا ہے۔

مولانا مسعود اظہر کی قیادت میں کام کرنے والے گروپ جیش محمد پر پہلے ہی سے اقوام متحدہ کا پابندیاں عائد ہیں۔ اگر ان پر بھی پابندی لگ جاتی ہے تو ان کے اثاثے منجمد اور دنیا بھر میں سفر ممنوع ہو جائے گا۔

اظہر پر پابندی میں رکاوٹ بننے کے ساتھ، بھارت چین کے جانب سے حساس جوہری ٹیکنالوجی کے کلب میں بھارتی شمولیت کا راستے روکنے پر بھی برہم ہے۔

بھارتی تجزیہ کار چین کی جانب سے مولانا اظہر پر پابندی اور جوہری کلب میں بھارت کے داخلے میں رکاوٹ کی وجہ پاکستان کے ساتھ اس کے طویل عرصے سے جاری تعلقات کو سمجھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG