رسائی کے لنکس

کامن ویلتھ گیمز کے انتظامات پر فیڈریشن کا عدم اطمینان

  • انجنا پسریچا

بھارت میں کامن ویلتھ گیمز کے لیے تعمیر کیا جانیوالا پل جو منہدم ہوگیا۔

بھارت میں کامن ویلتھ گیمز کے لیے تعمیر کیا جانیوالا پل جو منہدم ہوگیا۔

اب جب کہ نئی دہلی میں کامن ویلتھ گیمز کے آغاز میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، بھارت میں اس پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن نے کھلاڑیوں کے لیے قائم کی جانے والی بستی پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جب کہ مرکزی اسٹیڈیم کے نزدیک پیدل چلنے والوں کے لیے تعمیر کیا جانے والا ایک پل گرنے سے کم ازکم 23 افراد زخمی ہوگئے ہیں

گذشتہ کئی مہینوں سے کامن ویلتھ گیمز کے لیے ، جو تین سے14 اکتوبر تک نئی دہلی میں جاری رہیں گی، اسٹیڈیم اور دوسرے انفرا سٹرکچر کی تعمیر کے سلسلے میں دی جانے والی ڈیڈ لائنز پوری نہیں ہوسکی ہیں۔

اب کامن ویلتھ گیمز کی فیڈریشن اورایڈونس ٹیمیں نئی دہلی پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے کھلاڑیوں کے لیے بنائے جانے والے رہائشی حصے میں فراہم کردہ سہولتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ٹائلٹ لیک کررہے ہیں اور کالونی کے آس پاس جابجا ملبے کے ڈھیر دکھائی دے رہے ہیں۔

کامن ویلتھ گیمز کے چیف ایگزیکٹو مائک ہوپر کا کہنا ہے ۔کھلاڑی کے لیے بنائی جانے والی بستی کی حالت اور صفائی ستھرائی کے بارے میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ان کے اکثر ٹاورز بہت گندے ہیں ۔

صفائی ستھرائی ، پلمبنگ اور بجلی کی تاروں کے علاوہ انٹرنیٹ تک رسائی بھی ایک مسئلے کے طورپر سامنے آئی ہے۔

کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمعرات تک، جب سےکھلاڑیوں کی آمد شروع ہورہی ہے، ان کی رہائشی بستی کی حالت بہتر بنائے۔

نئی دہلی میں کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی نے کہا ہے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ کمیٹی کے وائس چیئر مین رندھیر سنگھ نے کہا ہے کہ تمام خرابیاں دور کرنے کے لیے دن رات کام کیا جارہاہے۔

ان کا کہناتھا کہ عمارتیں درست ہیں، تمام عمارتیں بالکل مناسب ہیں۔ البتہ کچھ بلاکس میں صفائی کے حوالے سے کچھ مسائل موجود ہیں۔

لیکن بظاہر مسائل بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ منگل کے روز ، اس اسٹیڈیم کو ، جہاں کھیلوں کی افتتاحی تقریبات ہوں گی، پارکنگ کی جگہ سے ملانے والا ایک پل گر گیا جس سے وہاں کام کرنے والے کئی مزور زخمی ہوگئے۔

کامن ویلتھ گیمز بھارت میں گذشتہ تین عشروں میں کھیلوں کی سب سے بڑی تقریب ہوگی جس میں دولت مشترکہ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 17 ہزار کھلاڑی شرکت کریں گے۔

بھارت، جس کی معیشت اور عالمی ساکھ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، ان مقابلوں کو اپنے ملک کی ایک بہتر تصویر پیش کرنے کا ایک موقع سمجھ رہاہے۔ لیکن حالیہ مہینوں میں انفرا سٹرکچر کی غیر معیاری تعمیر، رشوت ستانی کے الزامات ، بڑے پیمانے پر اخراجات اور غیرمستعدی، کھیلوں کی اس بڑی تقریب پراثر انداز ہورہی ہے۔

اتوار کے روز دو غیر ملکی سیاحوں پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے بعد سیکیورٹی کے بارے میں بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

لیکن بھارتی حکام بدستور پرامید ہیں اور وہ کھیلوں کی ایک کامیاب تقریب کی میزبانی کی توقع کررہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG