رسائی کے لنکس

صوبہٴ سرحد میں دو سکھوں کے سر قلم کیے جانے پربھارت کی مذمت

  • سہیل انجم

صوبہٴ سرحد میں دو سکھوں کے سر قلم کیے جانے پربھارت کی مذمت

صوبہٴ سرحد میں دو سکھوں کے سر قلم کیے جانے پربھارت کی مذمت

یہ ایک انتہائی وحشیانہ قدم ہے: بھارتی وزیرِ خارجہ

پاکستان میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ہاتھوں دو سکھوں کے سر قلم کیے جانے کے واقعے پر بھارت میں شدید ردِ عمل ہوا ہے اور وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے اِسے ایک انتہائی وحشیانہ قدم قرار دیتے ہوئے یہ اشارہ دیا ہے کہ بھارت پاک سیکریٹری خارجہ مذاکرات کے دوران اِس معاملے کو اُٹھایا جا سکتا ہے۔

ایس ایم کرشنا نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ پاکستان کو اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں اپنے ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں اور اِس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تحریکِ طالبان کے بندوق برداروں نے پشاور کے نزدیک الگ الگ واقعات میں دو سکھوں کو اغوا کیا اور اُن کے سر قلم کردیے۔

وزیرِ مملکت برائے خارجہ پرنیت کور نے بھی پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

اُدھر، بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی پارٹیوں اور سکھوں کی تنظیموں نے بھی اِس واقعے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اِس معاملے کو پاکستان کے سامنے رکھے اور وہاں سکھوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔


XS
SM
MD
LG