رسائی کے لنکس

وزیر اعظم مودی کی پارلیمنٹ میں کانگریس پر شدید نکتہ چینی


بھارت میں کانگریس پارٹی کا ایک رکن مظاہرے کے دوران منسوخ کیے جانے والی بڑی مالیت کے کرنسی نوٹوں کے ساتھ۔ فائل فوٹو

انہوں نے پانچ سو اور ایک ہزار کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی اور کنٹرول لائن کے پار مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کے اقدامات کا دفاع کیا۔

سہیل انجم

وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف بالخصوص کانگریس کو شديد تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں ملک میں لگائی جانے والی ایمرجینسی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس کو آڑھے ہاتھوں لیا۔

وزیر اعظم نے اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں متعدد امور پر اظہار خیال کیا اور اپنی حکومت کا موقف واضح کیا۔

انہوں نے پانچ سو اور ایک ہزار کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی اور کنٹرول لائن کے پار مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کے اقدامات کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ نوٹ منسوخی کا فیصلہ بالکل مناسب وقت پر کیا گیا جب ملک کی معیشت مضبوط پوزیشن میں تھی۔ انہوں نے اپنے اس اقدام کو عوام کے حق میں قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت شروع سے ہی اس معاملے پر بحث کے لیے تیار تھی لیکن حزب اختلاف کے ارکان نیوز چینلز کو بیانات دینے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

واضح رہے کہ نوٹ منسوخی کے معاملے پر حزب اختلاف کے متواتر مطالبے کے باوجود وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں بحث کے لیے کبھی موجود نہیں رہے۔

وزیر اعظم مودی نے ستمبر میں کنٹرول لائن کے پار دهشت گردوں کے ٹھکانوں پر مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کے بارے میں کہا کہ میں ابتدائی24 گھنٹوں میں بعض سیاست دانوں کے بیانات دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔

یاد رہے کہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال اور بائیں بازو سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان نے بھی ایسی کسی کارروائی کے وجود سے انکار کیا تھا۔

وزیر اعظم کی تقریر کے دوران حزب اختلاف کی جانب سے مسلسل رخنہ اندازی کی جاتی رہی۔

ایک روز قبل کانگریس کے رکن ملک ارجن کھرگے نے متعدد امور پر وزیر اعظم مودی اور حکمران بی جے پی پر شديد نکتہ چینی کی تھی۔ بعد ازاں کانگریس کے واک آوٹ کے دوران شکریہ کی تحریک منظور کر لی گئی۔

کانگریس نے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی تقریر کو متکبرانہ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ملک کو اپنی پالیسیوں کے بارے میں بتانے کا ایک اچھا موقع گنوا دیا، کیونکہ اب اگلا بجٹ ایک سال کے بعد ہی آئے گا۔

XS
SM
MD
LG