رسائی کے لنکس

بھارت: کرپشن کے خلاف ہفتے سے بابارام دیو کی عوامی بھوک ہڑتال


بھارت: کرپشن کے خلاف ہفتے سے بابارام دیو کی عوامی بھوک ہڑتال

اعلیٰ بھارتی حکام ، بابا رام دیو کے نام سے موسوم ایک شخصیت کوعوامی بھوک ہڑتال سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بابا رام دیو، جو یوگا گرو کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، بھارت میں کرپشن اور رشوت ستانی کے مسئلے پر حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھوک ہڑتال شروع کرنے والے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے ارکان، کوریج کے لیے دارالحکومت نئی دہلی کے اس مقام پر پہنچنا شروع ہوگئے ہیں جہاں یوگا کے ماہر بابارام دیو کرپشن کے خلاف ہفتے کے روز سے تام دم مرگ بھوک ہڑتال کے لیے بیٹھ رہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ذاتی طورپر رام دیو پر زور دیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال شروع نہ کریں۔

رام دیونے وزیراعظم اور ان چار وزراء کی اپیلیں مسترد کردیں ہیں جو دہلی میں ان کی آمد کے موقع پر استقبال کے لیے ائیر پورٹ پر اکھٹے ہوئے تھے۔

رام دیو کا کہناہے کہ پہلے روز ایک کروڑ سے زیادہ بھارتی ان کے ساتھ بھوک ہڑتال میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا جو لوگ بھارت کو کرپشن اور رشوت ستانی سے آزادی دلانا چاہتے ہیں اور جو سماجی انصاف کے حق میں ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ بھوک ہڑتال میں ان کا ساتھ دیں۔

اس سے قبل 73 سالہ سماجی کارکن اینا ہزارے کی بھوک ہڑتال نے بھی بڑے پیمانےپر عوامی پذیرائی حاصل کی تھی۔ ان دنوں عوامی شخصیات کا مقصد حکومت پر ایک ایسے بااختیار ادارے کے قیام کے لیے دباؤ ڈالنا ہے جو آزادانہ طور بدعنوان اور رشوت خور عہدے داروں کی نشان دہی کرنے اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کا کام کرسکے۔

جائیداد کی خریدو فروخت، موبائل فونز کے لائسنسوں کی نیلامی اورپچھلے سال دولت مشترکہ کھیلوں میں اربوں ڈالر کی کرپشن کی خبروں سے حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس سال کے شروع میں ایک امریکی تحقیقاتی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ گذشتہ 60 سال کے عرصے میں بھارت سے تقریباً پانچ کھرب ڈالر غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کیے جاچکے ہیں۔

رام دیو کا کہناہے اب وقت آگیا ہے کہ کالے دھن کا کچھ حصہ ملک میں واپس لایا جائے اور اس دھندے میں ملوث افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG