رسائی کے لنکس

بھارت میں بدعنوانی کے خاتمے کی کوششیں

  • انجنا پسریچہ

اروند کیجری وال (فائل فوٹو)

اروند کیجری وال (فائل فوٹو)

بھارت کی ایک ممتاز شخصیت اروند کجری وال نے کرپشن کے خلاف ایک ایسی سیاسی پارٹی تشکیل دی ہے جس نے حکومت سے بدعنوانی کے خاتمے کا عہد کیا ہے۔

بھارت میں کرپشن کے بارے میں عوامی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک ممتاز شخصیت نے کرپشن کے خلاف ایک ایسی سیاسی پارٹی تشکیل دی ہے جس نے حکومت کو کرپشن سے پاک کرنے کا عہد کیا ہے۔

اگرچہ اس پارٹی کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن نئی پارٹی سے سرکاری سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور رشوت ستانی کا مسئلہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اس نئی سیاسی پارٹی کا نام عام آدمی ہے۔ اس کے کرتا دھرتا شعلہ بیان 44 سالہ سابق ٹیکس افسر اروند کجری وال ہیں جو کرپشن کے خلاف ایک ملک گیر مہم میں پیش پیش تھے۔ جب یہ مہم جو ایک طاقتور اور با اختیار محتسب کے قیام کے لیے چلائی گئی تھی، دم توڑ گئی، تو کجری وال نے عہد کیا کہ وہ معاشرے میں پھیلے ہوئے کرپشن کے خلاف جنگ کے لیے سیاسی طریقہ ٔ کار اختیار کریں گے۔

کجری وال کہتے ہیں کہ ان کا مقصد بھارت کے رشوت اور بد عنوانی سے بھر پور سیاسی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم ان ضابطوں کے تحت انتخابات نہیں لڑیں گے۔ ہم ان ضابطوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ انتخابات پیسے اور دھونس دھاندلی کے زور پر، ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر لڑے جاتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘‘

عام لوگوں میں بے تحاشا رشوت کے خلاف سخت غم و غصہ موجود ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس اور گیس کے کنیکشن جیسے چھوٹے چھوٹے کاموں سے لے کر اربوں ڈالر کے اسکینڈلز تک جن میں اعلیٰ سرکاری افسر ملوث ہوتے ہیں، ہر طرف رشوت کا بازار گرم ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں کرپشن کے بعض بڑے بڑے اسکینڈل منظرِ عام پر آئے ہیں، اور لوگوں میں ناراضگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

نئی دہلی کے سیاسی مبصر یوگندر یادو جو نئی پارٹی کے ایک اہم رکن ہیں، کہتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ کرپشن کے خلاف سیاسی سطح پر تحریک چلائی جائے ۔ ان کے مطابق

’’پورے سیاسی نظام کے بارے میں شدید بے اطمینانی پائی جاتی ہے، اور یہ ایک غیر معمولی، بلکہ تاریخی موقع ہے کہ ہم ایک مختلف قسم کی سیاست کا آغاز کریں۔ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔‘‘

کجری وال نے حکمران کانگریس پارٹی اور حزبِ اختلاف کی بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں پر بد عنوانی پر مبنی نظام کے فروغ کے لیے گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کھلے عام بھارت کے بعض انتہائی با اثر لوگوں کا نام لیا ہے جو اس ہیر پھیر میں ملوث ہیں۔

ان میں سب سے بڑا نام رابرٹ وادرا کا ہے جو کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی کے داماد ہیں۔ کجری وال نے ان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے بھارت کے بعض سب سے بڑے پراپرٹی ڈیلرز کے ساتھ ساز باز کی ہے اور زمین کے سودوں میں دھوکے بازی سے بڑی مقدار میں دولت اکٹھی کر لی ہے۔ وزیرِ خارجہ، حزبِ اختلاف کی بڑی پارٹی کے سربراہ، اور ملک کا سب سے بڑا کاروباری ادارہ، ریلائنس بھی ان کی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ ان سب نے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے ۔

میڈیا میں کجری وال کی تعریف ہوئی ہے اور ان پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں جب کہ بعض دوسرے لوگ انہیں سیاسی موقع پرست کہتے ہیں جو ایک مسئلے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو بہت سے بھارتیوں کے لیے پریشان کن ہے۔

نئی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر، زویا حسن کہتی ہیں کہ اس نئی پارٹی نے کرپشن کو بھارتی سیاست کا مرکزی مسئلہ بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ

’’یہ لوگ سیاست اور بزنس کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے کیوں کہ متوسط طبقے کے لوگ اور میڈیا میں کرپشن کے بارے میں تشویش موجود ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے کرپشن کے خلاف قانون سازی کی رفتار تیز ہو جائے، اور میرا خیال ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی دونوں میں کرپشن کے مسئلے کے شعور میں اضافہ ہو گا۔‘‘

حکمران کانگریس پارٹی تسلیم کرتی ہے کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے، اور وہ ایسا کرنے کی پابند ہے۔ لیکن اس نے نئی سیاسی پارٹی کو شعبدہ بازی کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ کجری وال میڈیا میں سرخیوں کی زینت بن رہے ہیں، لیکن بھارت میں کرپشن کے خلاف جنگ لڑنا ایک چھوٹی سی نئی پارٹی کے بس کی بات نہیں جس کی سرگرمیاں ملک کے شمالی حصے تک محدود ہیں۔

اس پارٹی کی اصل آزمائش اس وقت ہوگی جب یہ اگلے سال بھارت کے دارالحکومت میں مقامی انتخاب میں، اور 2014ء میں عام انتخابات میں حصہ لے گی۔

زویا حسن کہتی ہیں کہ عام آدمی نامی پارٹی کا محدود ایجنڈا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس نے سیاست میں ہلچل تو مچا دی ہے، لیکن اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ اس کی وجہ سے انتخابی سیاست میں کوئی بڑا فرق پڑے گا۔
XS
SM
MD
LG