رسائی کے لنکس

بھارتی سپریم کورٹ نے انٹی کرپشن کے سربراہ کو برطرف کردیا


بھارتی سپریم کورٹ نے انٹی کرپشن کے سربراہ کو برطرف کردیا

بھارتی سپریم کورٹ نے انٹی کرپشن کے سربراہ کو برطرف کردیا

بھارتی حکومت کو سپریم کورٹ کی جانب سے انسداد رشوت ستانی کے سربراہ کی متنازع تعیناتی پر سوال اٹھانے کے بعد کرپشن کے مسئلے پر ایک اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ حکومت پر اس دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کررہی۔

جمعرات کے روز انسداد رشوت ستانی کے سربراہ پی جے تھامس کی تعیناتی منسوخ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہاہے کہ انہیں عہدہ سونپتے وقت یہ خیال نہیں رکھا گیا کہ خود ان پر رشوت ستانی کے الزامات موجود ہیں۔

تھامس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی ٰ دے دیا۔

سپریم کورٹ کا کہناتھا کہ یہ ضروری ہے کہ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے ادارے کی سربراہی کسی ایسے شخص کے پاس ہونی چاہیے جس کا کردار شک و شبہے سے بالاتر ہو۔

تھامس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ایک وکیل پراشنت بھوشن نے دائر کی تھی۔

ان کا کہناتھا کہ عدالت نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کے لیے مؤثر،طاقت ور اور آزاد ادارے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ عدالت نے یہ کہاہے کہ یہ چیز ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بہت اہم ہے۔

پچھلے سال جب تھامس کو انٹی کرپشن کے ادارے کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا تو اس پر بہت شور وغوغا ہواتھا۔

تھامس پر 1992ء میں ایک سرکاری عہدے دار کے طورپر ریاست کیرالا میں پام آئل کی درآمد سے متعلق الزامات لگائے گئے تھے۔ پام آئل مبینہ طورپر ملائیشیاء سے مہنگے نرخوں پر خریدیا گیاتھا۔ تھامس اس سے انکار کرتے ہیں۔

لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہناہے کہ ایک ایسا شخص جسے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہو، ملک میں رشوت ستانی کے سب سے بڑے اسکنڈلوں کی تحقیقات کے لیے موزوں نہیں ہے۔ ان مقدمات میں پچھلے سال دولت مشترکہ کھیلوں کے ٹھیکے، موبائل فونز کے لائسنسوں کی ارزاں نرخوں پر فروخت اور جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی بیواؤں کے ایک ہاؤسنگ پراجیکٹ کے اسکینڈل شامل ہیں۔

حکومت نے تھامس کو سربراہ مقرر کرنے کے اپنے فیصلے کادفاع کرتے ہوئے کہاتھا کہ اسے تھامس کے خلاف الزامات کا علم نہیں تھا۔

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر ارون جیتلی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ حکومت کو لازمی طورپر یہ بتانا ہوگا کہ اس نے تھامس کو اس عہدے پر کیوں رکھا تھا۔

ان کا کہناتھا کہ ایک لحاظ سے ہمارے قومی مقاصد کے لیے یہ درست اقدام ہے۔ یہ حکومت کے خلاف ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بتائے کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔

تھامس کو ایک اعلیٰ سطحی پینل نے منتخب کیا تھا جس میں وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی شامل تھے۔

تھامس کی برطرفی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔ انہیں بھارت کے انتہائی ایماندار سیاست دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ان پر یہ تنقید بڑھ رہی ہے کہ وہ ایک کمزور راہنما ہیں اور انہوں نے ا پنی انتظامیہ کو شفاف بنانے کے لیے زیادہ اقدامات نہیں کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG