رسائی کے لنکس

ایک تہائی بھارتی بدعنوان ہیں، ویجلنس کمشنر کے بیان پر ہنگامہ

  • رشیدالدین

پراتیوش سنہا

پراتیوش سنہا

دنیا کے بیشتر ملکوں میں کرپشن کے عام ہونے کی رپورٹس آرہی ہیں۔کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنے والے عالمی اداروں نے اس بارے میں سروے بھی کیا ہے۔کرپشن یعنی بدعنوانی سے بھارت بھی محفوظ نہیں۔ ملک میں کرپشن سے متعلق سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے قائم ادارہ کے سربراہ نے ایک سنسنی خیز بیان دیتے ہوئے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑدی ہے۔اس بیان نے حکومت کو الجھن میں مبتلا کردیا ہے۔بھارت کے چیف ویجلنس کمشنر پراتیوش سنہا نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتے ہوئے کہا کہ بھارت کے 30 فیصد افراد کرپٹ یعنی بدعنوان ہیں اور 50 فیصد کرپشن کی سرحد پر ہیں۔ان کے مطابق صرف 20 فیصد بھارتی دیانت دار ہیں۔پراتیوش سنہا جو گذشتہ دنوں اس اہم عہدہ سے ریٹائر ہوئے نے ایک اخبار کو انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ان کے اس بیان پر وفاقی حکومت نے شدید اعتراض کیا ہے۔ کرپشن کے خلاف لڑنے والے عالمی ادارہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنے سروے میں کرپشن میں بھارت کو دنیا کے ملکوں میں 84 واں مقام دیا ہے۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے عوام کو اپنے کاموں کی تکمیل کے لئے عہدیداروں کو رشوت دینی پڑتی ہے۔

پراتیوش سنہا نے کہا کہ 50 فیصد بھارتی کرپشن کے دہانے پر ہیں اور صرف 20 فیصد دیانت دار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ معاشرہ میں کرپشن کو برا نہیں سمجھا جارہا ۔سنہا کے مطابق آج کے بھارت میں اسی کی عزت اور توقیر کی جاتی ہے جو زیادہ دولت مند ہو،کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ یہ دولت کہاں سے کمائی۔

اسی دوران وفاقی وزیر قانون ویرپا مویئلی نے سنہا کے بیان پر سخت اعتراض کیا اور ان سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔وزیر نے کہاکہ اس اعلیٰ عہدہ پر فائز رہتے ہوئے بہت کچھ تبدیلی لاسکتے تھے لیکن سنہا اس میں ناکام ہوگئے۔وزیر نے ریمارک دیا کہ بعض سرکاری عہدیدار ریٹائرمنٹ کے بعد پاک باز بن جاتے ہیں۔مویئلی نے کہا کہ انہیں سنہا کے بیان سے دکھ ہوا اس لئے کہ انہوں نے مٹھی بھر بدعنوان افراد کی آڑ میں سارے ملک کو کرپٹ کہہ دیا،جو کہ ہرگز مناسب نہیں ہے۔سنہا کا بیان ان کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔۔واضح رہے کہ بھارت میں چیف ویجلنس کمشنر ایک دستوری اور خودمختار ادارہ ہے جس کا کام سرکاری محکمہ جات میں بدعنوانیوں کو روکنا ہے۔

XS
SM
MD
LG