رسائی کے لنکس

بھارتی سُپریم کورٹ نے ”جھوٹ کی دوا “ اور پولی گراف کو خلافِ قانون قرار دے دیا


پولی گراف کی مشین

پولی گراف کی مشین

بھارت کی سُپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ نفاذِ قانون کے ذمّے دار حکام ملزموں سے پوچھ گچھ کے دوران سچ اُگلوانے کے لیے اُنہیں مخصوص دواؤں کے استعمال یا دروغ رساں آلات کی آزمائش پر مجبور نہیں کرسکتے ۔

عدالت نے بدھ کے روز فیصلہ سنایا ہے کہ کسی بھی فرد کو اُس کی رضامندی کے بغیر اس قسم کے طریقوں کا ہدف نہیں بنایا جاسکتا۔عدالت نے ان طریقوں کے استعمال کو ” ذاتی آزادی میں ایک بلا جواز دراندازی“ قرار دیا ہے۔

”جھوٹ“ کی دوا کے ٹسٹ میں ملزموں کو پوچھ گچھ کے دوران سوڈئیم پینٹا تھول جیسے کسی کیمیاوی محلول کا انجیکشن لگادیا جاتاہے ، جس سے آدمی نیم بے ہوش سا ہوجاتا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایسے کئى ملزموں کی درخواستوں کے جواب میں سنایا ہے، جنہوں نے اس قسم کے طریقوں کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔درخواست گزاروں کے وکلانے بدھ کے روز سُپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئى شخص اس قسم کی آزمائش پر رضا مند ہوجائے تب بھی اُس کے نتائج کو شہادت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف مزید چھان بین کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG