رسائی کے لنکس

خدشات کے باعث نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کی دہلی آمد میں تاخیر

  • ب

سفائی ستھرائی سمیت بجلی اور نکاسی آب کے ناقص نظام کی شکایات کے باوجود ”ایتھلیٹس ولیج“ جہاں کھلاڑیوں کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جمعرات کے روز کھولا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ایک روز قبل بتایا تھا کہ کھیلوں کے یہ مقابلے عالمی معیار کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔

صحت اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظراسکاٹ لینڈ اور کینیڈا کے بعد نیو زی لینڈ نے بھی بھارت میں آئندہ ماہ ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کے لیے اپنے کھلاڑیوں کی روانگی میں تاخیر کر دی ہے۔

نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں کی دارالحکومت دہلی میں آمد ہفتہ کے روز سے شروع ہونا تھی لیکن ملک کی اولمپک کمیٹی نے ان کو کم از کم منگل کے روز تک انتظار کرنے کوکہا ہے۔

کمیٹی کے صدر مائک اسٹینلے کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر آرام یا آسائش کے لیے نہیں بلکہ حظان صحت اور سلامتی سے جڑے مسائل کی وجہ سے کی گئی ہے۔

سفائی ستھرائی سمیت بجلی اور نکاسی آب کے ناقص نظام کی شکایات کے باوجود ”ایتھلیٹس ولیج“ جہاں کھلاڑیوں کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے جمعرات کے روز کھولا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک روز قبل بتایا تھا کہ کھیلوں کے یہ مقابلے عالمی معیار کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ دہلی جانے کا فیصلہ کھلاڑی انفرادی طور پر کریں گے، جب کہ آسٹریلوی حکومت نے کامن ویلتھ گیمز کے دوران ”دہشت گردی کے گراں خطرے“ کا انتباہ کیا ہے۔

یہ تنبیہ گذشتہ ہفتے پیش آئے اُس واقعے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں نامعلوم مسلح افراد نے دہلی کی مشہور جامع مسجد کے باہر تائیوان سے تعلق رکھنے والے دو سیاحوں کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

کامن ویلتھ گیمز فیڈریشن کے سربراہ جمعرات کو دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ بڑھتے ہوئے مسائل پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے بات چیت کریں گے۔

ایک روز قبل ویٹ لفٹنگ مقابلوں کے انعقاد کے لیے منتخب کیے گئے ہال کی چھت کا ایک حصہ گر گیا تھا جب کہ منگل کو مرکزی سٹیڈیم کے قریب زیر تعمیر پل منہدم ہونے سے ستائیس افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس علاقے میں تعمیراتی کام کی وجہ سے کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش کے پیش نظر یہاں آنے والے افراد میں ڈینگی بخار پھوٹ پڑنے کا بھی اندیشہ ہے۔

71ممالک اور ماضی میں برطانوی راج کا حصہ رہنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی کامن ویلتھ گیمز میں شریک ہو رہے ہیں جو ہر چار برس بعد منعقد کی جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG