رسائی کے لنکس

اگرچہ بھارت کی معیشت انحطاط کا شکار ہے، لیکن ملک کے وسیع دیہی علاقوں میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ گذشتہ دو برسوں میں زرعی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کاشتکاروں کے ہاتھوں میں زیادہ پیسہ آ گیا ہے۔

دولت کی فراوانی کے ساتھ بھارت کے ہزاروں گاؤں میں لوگ خوب پیسہ خرچ کر رہے ہیں اور دیہی علاقوں کی معیشت تبدیل ہو رہی ہے۔ اب ہر قسم کی کمپنیاں گاؤں کے لوگوں کو کاروں سے لے کر ٹیلی ویژن، صابن اور انواع اقسام کی چیزیں فروخت کر رہی ہیں اور یہ اُمید پیدا ہو رہی ہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے پورے ملک کی کایا پلٹ جائے گی۔

ارون شرما بہار اسٹیٹ کے روہوا گاؤں کے اسکول میں ٹیچر ہیں۔ انہیں اپنے لڑکپن کے زمانے کا گاؤں یاد ہے۔ بیشتر لوگ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ گاؤں میں گاڑیاں تو کیا سائیکل تک نہیں تھی اور نہ کوئی سڑک تھی۔ اب زندگی بالکل بدل گئی ہے۔ شرما کا کہنا ہے کہ ’’اب تو ہر گھر کے سامنے موٹر سائیکل کھڑی ہے۔ لوگوں کے پاس ٹیلیویژن، موبائل فون، پانی کا ٹینک سبھی کچھ ہے۔‘‘

یہ تبدیلی کوئی معمولی بات نہیں کیوں کہ روہوا گاؤں بھارت کی ایک سب سے زیادہ پسماندہ ریاست بہار میں واقع ہے۔

اگرچہ بھارت کی معیشت انحطاط کا شکار ہے، لیکن ملک کے وسیع دیہی علاقوں میں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ گذشتہ دو برسوں میں زرعی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کاشتکاروں کے ہاتھوں میں زیادہ پیسہ آ گیا ہے۔ کھیتوں پر کام کرنے والے مزدور زیادہ پیسہ کمانے لگے ہیں۔ حکومت نے کاشتکاروں کے لیے بہت سے قرضے منسوخ کر دیے ہیں۔ توانائی، کیمیائی کھاد، اور غذائی اشیاء پر حکومت نے کاشتکاروں کو امدادی رقوم دی ہیں اور یوں ان کی آمدنی اور دیہی علاقوں کی خوشحالی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت کے 660,000 گاؤں، جہاں ملک کی ایک اعشاریہ دو ارب آبادی کا دو تہائی حصہ آباد ہے، کاروں سے لے کر جینز، صابن اور شیمپو تک بنانے والی کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

شنکر پرشاد ضلع مظفر پور میں جہاں روہوا گاؤں واقع ہے، عام استعمال کی چیزیں فروخت کرتے ہیں۔ آج جب وہ اپنی سیلز ٹیم سے ملتے ہیں تو دیہات میں رہنے والے گاہکوں پر توجہ دینے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’ہم ٹریکٹرز، موٹر سائکلیں، ٹیلیویژن، فرج، واشنگ مشینیں، یہ سب چیزیں فروخت کر رہے ہیں۔ گاؤں والوں کی آمدنی میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں کے خریداروں میں پچاس فیصد گاؤں میں رہنے والے لوگ ہیں۔‘‘

دیہات کی معیشت میں جو انقلاب آیا ہے اس کا اندازہ بھارت کی سب سے بڑی کار کمپنی، ماروتی، کی فروخت کے گذشتہ دو سال کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ 2009ء تک اس کمپنی کی صرف تین فیصد کاریں دیہی علاقوں میں فروخت ہوتی تھیں۔ اب ہر چوتھی کار دیہات میں رہنے والے لوگ خریدتے ہیں۔

نئی دہلی میں ماروتی کے سربراہ، مایانک پریک کہتے ہیں کہ مشرق سے مغرب تک، کچی پگڈنڈیوں کی جگہ پکی سڑکیں بن گئی ہیں اور گاؤں بڑے بڑے قصبوں کے نزدیک آ گئے ہیں۔ پریک کا کہنا ہے کہ ’’تقریباً پانچ برس پہلے تک، پچاس فیصد گاؤں میں سڑکیں تک نہیں تھیں اور وہ ایک دوسرے سے کٹے ہوئے تھے۔ حالیہ برسوں میں دیہی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے میں بہت سا پیسہ لگایا گیا ہے اور یہ سب مقامات ملکی معیشت سے جُڑ گئے ہیں۔ اس سے مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اب تک ہم نے جو کچھ کیا ہے وہ محض ابتدا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہماری تین فیصد کاریں ایسے گاؤں کو جاتی ہیں جن میں گھروں کی تعداد 100 سے بھی کم ہے۔‘‘

دیہی علاقوںمیں خوشحالی اور عام استعمال کی چیزوں پر خرچ میں اضافے کے باوجود، یہ علاقے اب بھی پسماندہ ہیں۔ یہاں اسکولوں اور علاج معالجے کی سہولتوں، صفائی ستھرائی کے انتظامات اور صاف پانی کی کمی ہے۔ اور بہت سے لوگ اب بھی بہت غریب ہیں۔ لیکن تبدیلی آ رہی ہے، اور بھارت کے کچھ لیڈروں میں یہ اعتماد پیدا ہو رہا ہے کہ ملک کے مستقبل کی کنجی ا ن کے پاس ہے۔

بھارت کے وزیرِ مالیات پرناب مکرجی نے بھارت کی تیز رفتار ترقی کے بارے میں بہت سے سوالات کا سامنا کیا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں پارلیمینٹ کو بتایا کہ وہ زراعت کے شعبے میں ترقی پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں تا کہ بھارت کے دیہی علاقے پورے ملک میں ترقی کا محرک بن جائیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب میں ملک کے اندر مانگ میں اضافے کی بنیاد پر ترقی کی حکمت عملی کی بات کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں زراعت کا شعبہ ہوتا ہے۔ ہماری ترقی ملک کے اندر مانگ میں اضافے کی وجہ سے ہونی چاہیئے، اور داخلی مانگ پیدا کرنے کے لیے ہم دیہی علاقوں کے بنیادی ڈھانچے میں، زرعی شعبے میں، سماجی شعبے میں، کافی پیسہ لگا رہےہیں۔‘‘

اودیش چودھری جیسے لوگوں کو اور کیا چاہیئے۔ ان کی پرچون کی دوکان ضلع مظفر پور کے تارورا گاؤں میں ہے اور ہر وقت گاہکوں سے بھری رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں دس برس پہلے تک، ان کے گاؤں میں کوئی بھی دوکان نہیں تھی۔

چودھری کہہ رہے ہیں کہ ٹیلیویژن سے انقلاب آ گیا ہے اور اب لوگ ہر وہ چیز خریدنا چاہتے ہیں جو وہ ٹیلیویژن پر دیکھتے ہیں

تاہم، اقتصادی ماہر انتباہ کرتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے اعانتوں کی لہر سے دیہی علاقوں میں خوشحالی تو آرہی ہے، لیکن آنے والے برسوں سے اس کی وجہ سے بھارت کے اقتصادی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ حکومت کا خسارہ بڑھتا جائے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ دیہی علاقوں کی بہت بڑی منڈی معیشت کو توانائی عطا کرے گی۔

XS
SM
MD
LG