رسائی کے لنکس

بھارت میں آزاد معیشت کے باوجود متوسط اور غریب طبقوں میں فرق برقرار

  • انجنا پسریچا

بھارت میں آزاد معیشت کے باوجود متوسط اور غریب طبقوں میں فرق برقرار

بھارت میں آزاد معیشت کے باوجود متوسط اور غریب طبقوں میں فرق برقرار

دو دہائیاں پہلے، بھارت نے اپنی معیشت کو سرکاری ضابطوں اور پابندیوں سے آزاد کر دیا تھا۔ بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں جن سے ملک میں زبردست تبدیلیاں آئیں اور بھارت ان ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا جو سب سے زیادہ تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کام ابھی جزوی طور پر مکمل ہوا ہے اور بھارت میں خوشحال متوسط طبقے اور کروڑوں غریب لوگوں کے درمیان فرق کو دور کرنا ضروری ہے۔

دو دہائیاں پہلے، بھارت نے اپنی معیشت کو سرکاری ضابطوں اور پابندیوں سے آزاد کر دیا تھا۔ بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں جن سے ملک میں زبردست تبدیلیاں آئیں اور بھارت ان ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا جو سب سے زیادہ تیزی سے اقتصادی ترقی کر رہے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کام ابھی جزوی طور پر مکمل ہوا ہے اور بھارت میں خوشحال متوسط طبقے اور کروڑوں غریب لوگوں کے درمیان فرق کو دور کرنا ضروری ہے۔

راجیو نندا کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینیئر ہیں۔ وہ 1980ء کی دہائی میں، نوجوانوں کی ایک لہر کے ساتھ امریکہ گئے تھے کیوں کہ ملک میں روزگار کے مواقع کا فقدان تھا۔ پھر 2001ء میں، جب بھارت کو اپنی سوشلسٹ طرز کی معیشت کو آزاد کیے ایک عشرہ گزر چکا تھا، وہ واپس آئے تا کہ بنگلور میں ا پنی امریکی کمپنی کے لیے ایک آفس قائم کریں۔ نندہ نے دیکھا کہ بارہ سال کے عرصے میں ملک میں ڈرامائی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ایک طرف کا ٹکٹ کٹا کر امریکہ پہنچے تھے ۔ پھر بھارت میں معیشت آزاد ہو گئی۔ لوگوں کا اندازِ فکر بدل گیا۔ اچانک ماحول میں نئی اُمیدیں اور نیا جوش و خروش پیدا ہو گیا۔‘‘

معیشت کو پابندیوں اور ضابطوں سے آزاد کرنے کا عمل ایسے وقت شروع ہوا جب بھارت میں بحران آیا ہوا تھا اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ بھارت اپنے بین الاقوامی قرضے ادا نہیں کر سکے گا۔ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ، اس وقت ملک کے وزیرِ خزانہ تھے۔ انھوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں پر سے پابندیاں ہٹا دیں، ملکی صنعت کو ضابطوں سے آزاد کر دیا اور ٹیکس کم کر دیے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کی معیشت، چین کے بعد، دوسری سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گئی۔ انفارمیشن ٹکنالوجی اور خدمات فراہم کرنے والے شعبوں میں زبردست ترقی ہوئی۔ اشیاء تیار کرنے والی صنعتیں پھلنے پھولنے لگیں اور بر آمدات میں اضافہ ہوا۔ بھارت میں ایک بہت بڑا متوسط طبقہ وجود میں آ گیا۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ، راجیو کمار کہتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں اہم ترین چیز یہ ہوئی کہ بھارت میں کاروباری تنظیم کاری اور مسابقت کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ 1991ء سے پہلے، بھارتی معیشت، مرکزی منصوبہ بندی اور سوشلزم کے نظریے کی اسیر تھی۔‘‘

لیکن 20 برس گزرنے کے بعد، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بھارت کا اقتصادی انقلاب ابھی ادھورا ہے اور بعض لوگوں کو یہ فکر ہے کہ ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ بہت سے پسماندہ، دیہی علاقوں میں غربت عام ہے۔ 40 فیصد سے کچھ زیادہ ، یعنی تقریباً 45 کروڑ لوگ ، دو ڈالر روزانہ سے بھی کم آمدنی میں گزارہ کرتے ہیں۔

بھارت کے اعلیٰ عہدے داروں کو یقین ہے کہ اور زیادہ تیز ترقی سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ وزیرِ داخلہ، پی چدم برم جو پہلے وزیرِ مالیات تھے، کہتےہیں کہ ’’ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم غربت میں کمی نہیں لا سکے ہیں، اور روزگار کے مواقع میسر نہیں ہیں۔ غربت میں کمی صر ف اس صورت میں آ سکتی ہے جب ہماری ترقی کی شرح آٹھ فیصد سے زیادہ ہو اور اسے کئی برسوں تک نو فیصد تک قائم رکھا جا سکے۔‘‘

لیکن پریشانی یہ ہے کہ کروڑوں بھارتیوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں صرف تیز رفتار اقتصادی ترقی سے فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ بھارت میں غذائیت کی کمی اور شیر خوار بچوں کی ہلاکت کی شرح انتہائی اونچی ہے۔ کروڑوں بچے آج بھی اسکول نہیں جاتے۔ بھارت کے ایک چوٹی کے ماہرِ معاشیات سوامی ناتھن اعیار کہتے ہیں کہ اس کی وجہ ان شعبوں میں بد انتظامی ہے۔ ان کے مطابق ’’محض یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ کچھ اقتصادی ترقی ہو رہی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ہمارے اسکولوں کی حالت کیا ہے؟ عام لوگوں کے لیے علاج و معالجے کی سہولتوں کا کیا حال ہے؟ سرکاری شعبے میں کارکردگی کی کیا حالت ہے؟ سب سے زیادہ اشد ضرورت یہ ہے کہ اس مسئلے پر توجہ دی جائے۔‘‘

تجزیہ کار یہ بھی کہتےہیں کہ گذشتہ سال کے دوران، اقتصادی امور کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے اور حکومت اپنی تمام تر توجہ سرکاری شعبے میں بے تحاشا کرپشن کے الزامات پر دے رہی ہے۔ اس طرح حکومت پالیسی کے معاملے میں مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

وزیرِ داخلہ چدم برم

وزیرِ داخلہ چدم برم

وزیرِ داخلہ چدم برم کہتے ہیں کہ ملک کو ایک بار پھر اپنی توجہ معیشت پر مرکوز کرنی چاہیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک بار پھر، اقتصادی ترقی، تبدیلی، اصلاحات، اور بہتر نظم و نسق کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیئے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری جیسے مسائل کو حل کیا جا سکے، اور ہم چین سے بھی آگے نکل سکیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ لوگوں نے پہلے ہی چین سے آگے نکل جانے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔‘‘

راجیو نندہ کہتے ہیں کہ سرکاری ضابطوں اور پابندیوں کے ختم ہونے کے دو عشروں بعد، بیشتر اعلیٰ تربیت یافتہ افراد، ملک چھوڑ کر مغربی ملکوں کو جانے کے بجائے، بھارت میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’گذشتہ چند برسوں کے دوران، میں نے یہ رجحان دیکھا ہے کہ لوگ باہر جانا نہیں چاہتے۔ انہیں بھارت میں ہی بہتر زندگی اور بہتر مواقع مل جاتے ہیں۔‘‘

ماہرین ِمعاشیات کہتےہیں کہ آنے والے برسوں میں چیلنج یہ ہوگا کہ درمیانے طبقے اور غریبوں کے درمیان فرق کو دور کیا جائے تا کہ شہروں کی پسماندہ بستیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے بھی ملک میں رہنے کو ترجیح دینے لگیں۔

XS
SM
MD
LG