رسائی کے لنکس

بھارت: نریندر مودی کا ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ مہم کا آغاز


بھارتی وزیر ِاعظم نے ملک گیر مہم ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کا آغاز شمالی ہریانہ میں پانی پت سے کیا، جہاں ہر 1000 لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد محض 879 ہے

بھارت میں بچیوں کی پیدائش کی وجہ سے اسقاط ِحمل کرانے کی شرح میں تشویشناک اضافے کی وجہ سے بھارت میں لڑکوں اور لڑکیوں کی آبادی کا تناسب غیر متوازن ہوگیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔

بھارتی وزیر ِاعظم نریندر مودی نے اسی سلسلے میں ایک قومی مہم ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کا آغاز کیا ہے، جس کی رُو سے پورے بھارت میں لڑکیوں کے بچاؤ اور انہیں زیور ِتعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی نسبتاً کم شرح کی وجہ سے بھارتی معاشرے کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی معاشرے میں لڑکیوں کی پیدائش سے متعلق رویہ نہ بدلا گیا تو مستبقل میں بھارت کو کئی گنا زیادہ مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارتی وزیر ِاعظم نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ، ’ہم 21 ویں صدی کے لوگ نہیں کہلائے جا سکتے‘۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ رحم ِمادر میں ہی بچیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے جیسا قبیح فعل 18 ویں صدی کی دقیانوسی سوچ سے بھی بدتر ہے، کیونکہ بچیوں کو ان کی پیدائش سے بھی پہلے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔

نریندر مودی کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دینا معاشرے کی ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بھارتی معاشرے میں لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر حقوق اور فوقیت دینے کے لیے آگہی کی ضرورت ہے۔

بھارتی وزیر ِاعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی عورت اپنی اولاد سے چھٹکارا نہیں چاہتی مگر بھارت جیسے معاشرے میں خاندان اور معاشرے کے دباؤ کے باعث وہ اپنی بچیوں کو مارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

بھارتی وزیر ِاعظم نے ملک گیر مہم ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ کا آغاز شمالی ہریانہ میں پانی پت سے کیا جہاں ہر 1000 لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد محض 879 ہے۔

بھارت میں اوسطاً ہر 1000 لڑکوں کے مقابلے میں محض 917 لڑکیوں کا تناسب ہے۔

اس ملک گیر مہم میں تعلیم کے ذریعے جنسی امتیاز کو ختم کرنے کے حوالے سے آگہی دی جائے گی۔ اس مہم کے آغاز میں 100 ڈسٹرکٹس پر زیادہ کام کیا جائے گا جہاں جنسی امتیاز بہت زیادہ ہے۔ تعلیم کے ذریعے شعور و آگہی دینے کے ساتھ ساتھ ان قوانین پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے گا جو بچیوں کی پیدائش کے بارے میں جان کر اسقاط ِحمل کرانے پر پابندی لگاتے ہیں۔

اس مہم کا ایک مقصد سکولوں میں لڑکیوں کی شرح کو بڑھانا بھی ہے اور بھارتی معاشرے کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنے لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دیں۔

بھارت میں خواتین اور بچوں کی بہبود سے متعلق وزیر مانیکا گاندھی کہتی ہیں کہ ایسی مہم وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ حکومتی تخمینوں کے مطابق بھارت کے بہت سے دیہاتوں میں گذشتہ 70برس سے کسی لڑکی کی پیدائش نہیں ہوئی ہے۔

مانیکا گاندھی کے مطابق بھارت میں بہت سے دیہات ایسے بھی ہیں جہاں پر ہر 1000 لڑکوں کے لیے محض 500 لڑکیوں کا تناسب ہے جو کہ بہت تشویشناک امر ہے۔

XS
SM
MD
LG