رسائی کے لنکس

دہلی کی سات نشستوں پر عام آدمی پارٹی، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک بھارت میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے انتخابات کے تیسرے اور اہم مرحلے میں جمعرات کو 11 ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام تین علاقوں کی 91 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

نئی دہلی کی سات نشستوں کے علاوہ، کیرالہ کی تمام 20، ہریانہ کی 10، اترپردیش کی 10، مہاراشٹر کے شمالی علاقے ودربھ اور اڑیسہ کی دس، دس، مدھیہ پردیش کی نو، بہار کی چھ، جھاڑ کھںڈ کی چار، کشمیر، جزائرانڈیمان نکویار، جزائر لکشدیپ، چھتیس گڑھ اور چندی گڑھ کی ایک ، ایک نشست پر انتخابات ہوئے۔

ان نشستوں پر کل 1418 امیدوار میدان میں ہیں جن کے انتخاب کے لیے 11 کروڑ سے زائد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

دہلی کی سات نشستوں پر عام آدمی پارٹی، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی "بی جے پی" نئی دہلی، مغربی اترپردیش، جنوبی بہار، مہاراشٹر کے مشرقی علاقے اور ہریانہ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو حکومت سازی کے لیے اس کی راہ کافی حد تک ہموار ہو سکتی ہے۔

جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں کئی اہم نام بھی لوک سبھا تک پہنچنے کے لیے اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ ان میں اتر پردیش کے غازی آباد سے معروف بھارتی اداکار راج ببر اور فوج کے سابق سربراہ وی کے سنگھ بھی شامل ہیں۔

اترپردیش ہی کے علاقے بجنور سے اداکارہ جیاپرادا اور میرٹھ سے نغمہ بھی انتخابی امیدواروں میں شامل ہیں۔

لوک سبھا کی 543 نشستوں کے لیے نو مرحلوں پر مشتمل انتخابات کا سلسلہ سات اپریل کو شروع ہوا تھا جو 12 مئی کو ختم ہوگا۔ حتمی نتائج کا اعلان 16 مئی کو کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG