رسائی کے لنکس

استاد بسم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ انھیں دو مرتبہ نریندر مودی کا تجویز کنندہ بننے کا کہا گیا لیکن انھوں نے انکار کردیا۔

بھارت کے مایہ ناز شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان مرحوم کا خاندان گزشتہ ماہ بھارتی میڈیا کے خبروں کا موضوع رہا لیکن اس کی وجہ شہنائی نہیں بلکہ بھارت کی سیاست ہے۔

گزشتہ ماہ جب بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کے لئے نامزد امیدوار نریندر مودی نے وارانسی سے لو ک سبھا کی نشت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے تھے تو استا دبسم اللہ خان مرحوم کے بیٹے ضامن حسین کو کہا گیا کہ وہ نریندر مودی کے تجویز کندہ بن جائیں لیکن انہوں نے ان کا تجویز کندہ بننے سے انکار کر دیا جس کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس خبر کا چرچا رہا۔

وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں ضامن حسین نے بتا یا کہ یہ صحیح ہے کہا انہیں نرنیدر مودی کا تجویز کنندہ بننے کے لیے کہا گیا تھا اور انہوں نے یہ کہ کر انکار کر دیا تھا کہ ہم فنکار لوگ ہیں اور ہمارا تعلق سنگیت سے ہے سیاست سے نہیں ہے۔

ظامن حسن نے کہا کہ "ہیمنت شرما نے ہمیں فون کر کے کہا کہ ہمیں نریندر مودی کا تجویز کندہ بننا ہے اور اس کے بعد مجھے وارانسی کے مئیر رام گوپال موہیل نے بھی ہمیں یہی کہا کہ ہم نریندر مودی کے تجویز کندہ بن جائیں اور اس کے بعد یہ خبر ٹی وی چینال پر نشر ہو گئی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ" ہم نے اپنے بڑوں سے مشورہ کیا توانہوں نے خان صاحب (نواز استا دبسم اللہ خان مرحوم) بھی سیاست میں نہیں تھے آپ بھی سیاست میں نہیں ہیں ہم فنکار لوگ ہیں اور ہمارا تعلق سنگیت سے ہے۔ مودی صاحب ہمارے مہمان ہیں ہم ان کا استقبال کرتے ہیں"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کانگرس یا کوئی اور پارٹی ان کو تجویز کنندہ بننے کو تو ان کا کیا جواب کیا ہو گا تو انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے بھی تجویز کنندہ نہیں بنیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر نریندر مودی وزیراعظم بنتے ہیں اور ان کو شہنائی بجانے کے لیا بلایا جاتا ہے تو پھر ان کو کیا ردعمل ہو گا تو ضامن حسین نے کہا " اگر نریندر مودی وزیراعظم بنتے ہیں تو اگر وہ ہمیں بلائیں گے تو ہم ضرور جائیں گے کیونکہ ہم فنکار لوگ ہیں ہم تو ہر پارٹی میں جا کر شہنائی بجاتے ہیں اگر ہمیں کانگرس والے یا کوئی اور بلائے گا تو بھی ہم ضرور جائیں گے کیونکہ ہم فنکار لوگ ہیں۔"

انہوں نے اپنے والد استاد بسم اللہ خان مرحوم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالاجی کے مندر میں ضرور جایا کرتے تھے اور وہ وہاں ریاض بھی کیا کرتے تھے۔

بہت سے بالی وڈ کی فنکار بھی بھارت میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ فنکار مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG