رسائی کے لنکس

بھارت: بجلی کی پیداوار میں نجی شعبہ پیش پیش

  • انجناپسریچا
  • جمیل اختر

بھارت: بجلی کی پیداوار میں نجی شعبہ پیش پیش

بھارت: بجلی کی پیداوار میں نجی شعبہ پیش پیش

ایک اعلیٰ بھارتی عہدے دار نے کہاہے کہ ملک کو اس وقت توانائی کے جس بڑے بحران کا سامناہے اس پر قابوپانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ جب کہ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے بجلی گھروں کی تعمیر میں مقامی نجی شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہاہے۔

بھارت کے توانائی کے سیکرٹری پی اوما شنکر کاکہناہے کہ ملک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں اگلے چھ برسوں میں تقریباً چار کھرب ڈالر سرمائے کی ضرورت ہوگی۔

بھارت کی توانائی کی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔ دیہی علاقوں میں لاکھوں گھر ابھی تک بجلی سے محروم ہیں۔ حتیٰ کہ بڑے شہروں میں بھی اکثر وبیشتر بجلی جاتی رہتی ہے خاص طورپر گرمیوں کے مہینوں میں۔ بجلی کی قلت ایک ایسی معیشت کے لیے ، جس کی ترقی کی رفتار تقریباً نو فی صد سالانہ ہے، مشکلات پیدا کررہی ہے۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال کے لیے توانائی کی پیداوار کے اپنے تازہ ترین اہداف حاصل نہیں کرسکے گی ۔ بھارتی حکومت نئے بجلی گھروں کی تعمیر کے اپنے اہداف پہلے بھی کئی بار مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بھارتی صنعتوں کی فیڈریشن کے توانائی کے ایک سابق مشیر وی رگھورامن کا کہناہے کہ نجی شعبے کی جانب سے توانائی کی پیداوار میں کئی جانے والی بھاری سرمایہ کاری سے تبدیلی متوقع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ تقریباً 20 برسوں میں ، میرا خیال ہے کہ ہم وہ استعداد فراہم نہیں کرسکے جتنی کہ درکا رتھی۔ لیکن اب ہم کچھ بہتر صورت حال میں ہیں کیونکہ نجی شعبہ اس میدان میں آگے بڑھ رہاہے اور ممکن ہے کہ اگلے تین یا چار برسوں میں ہم اس صورت حال میں بہتری لانے میں کامیاب ہوجائیں۔

توانائی کے شعبے کے لیے درکار چار کھرب ڈالر میں سے تقریباً نصف سرمایہ کاری نجی شعبے کی جانب سے متوقع ہے۔ وہ بڑے بڑے بجلی گھر تعمیر کررہے ہیں جن کی پیداواری استطاعت چار ہزار میگاواٹ تک ہے، جو بھارت میں اپنی نوعیت کے پہلے بجلی گھر ہیں۔

توانائی کے شعبے میں نجی کمپنیوں نے اس قانون میں تبدیلی کے بعد سرمایہ لگاناشروع کیا ہے جس کے تحت پہلے انہیں اپنی پیداوار صارفین کو براہ راست فروخت کرنے کی ممانعت تھی۔

توانائی امور کے ماہر رگھورامن کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیاں اس شعبے میں اب اپنے لیے بہتر مواقع دیکھ رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ نجی کمپنیاں توانائی کے شعبے میں یقنناً زیادہ بہتر طورپر شرکت کریں گی۔ ہمارے پاس تقسیم کار کمپنیوں اور صارفین جیسے شعبوں کو بجلی فروخت کرنے کی اہلیت موجود ہے اور اس کے لیے ایک بڑی مارکیٹ بن رہی ہے۔

توانائی کے شعبے میں زیادہ ترسرمایہ کاری مقامی کمپنیوں سے آرہی ہے ۔

بھارت میں توانائی کی طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق اور انفراسٹرکچر کی کمی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے جس پر قابو پانے کے لیے حکومت مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں سے یہ کہہ رہی ہے کہ وہ نئی سڑکوں، ریل کی پٹڑیوں اور پورٹس کی تعمیر کے لیے آگے آئیں۔

XS
SM
MD
LG