رسائی کے لنکس

برٹش میڈیکل جرنل کی جانب سے 2011ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، بھارت میں گذشتہ تین عشروں میں 12 ملین لڑکیوں کو ناجائز طور پر اسقاط ِحمل کے ذریعے مار دیا گیا

اقوام ِمتحدہ کی جانب سے منگل کے روز شائع کی جانے والی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں بچوں کی پیدائش سے پہلے ان کی جنس کے تعین اور لاکھوں لڑکیوں کو اسقاط ِحمل کی وجہ سے ضائع کرنے کی وجہ سے بھارت میں لڑکے اور لڑکیوں کا تناسب ’خطرناک حد تک غیر متوازن‘ ہو چکا ہے۔

اقوام ِمتحدہ کی رپورٹ کے مطابق، لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان غیرمتوازن تناسب کی وجہ سے اغوا اور انسانی سمگلنگ جیسے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

گو کہ بھارت میں حمل کے دوران بچے کی جنس معلوم کرنے کے بارے میں قوانین رائج ہیں، مگر اس کے باوجود، وہاں پر لڑکیوں کو ناجائز اسقاط ِحمل کی وجہ سے ضائع کرنے کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

بھارت میں عمومی طور پر لوگ لڑکیوں کی بجائے لڑکوں کی پیدائش کو ترجیح دیتے ہیں۔

اقوام ِمتحدہ میں خواتین کی معاون منتظمہ، لکشمی پوری نے اس رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر کہا کہ، ’یہ بہت ہی افسوسناک امر ہے کہ عورت جو زندگی کی تخلیق کرتی ہے، اسے ہی اس دنیا میں آنے کا حق نہیں دیا جا رہا‘۔

بھارت کے معاشرے میں روایتی طور پر مرد کا غلبہ ہے۔ بیٹوں کو ایک قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے جو بڑے ہو کر خاندان کی کفالت کر سکتا ہے اور خاندان کو سنبھال سکتا ہے، جن سے خاندان کا نام آگے چلتا ہے اور اپنے والدین کی آخری رسومات ادا کرتا ہے۔

دوسری طرف، بیٹیوں کو عموماً ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے، جنہیں بہت سا جہیز دے کر گھر سے رخصت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ انہیں ڈھنگ کا رشتہ میسر آ سکے۔

بھارت میں 2011ء میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق یہ دیکھا گیا کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح میں اس سے پچھلے عشرے میں کی گئی مردم شماری کے مقابلے میں بہتری کا رجحان دیکھا گیا۔ مگر ابھی بھی لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد خاصی کم ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل کی جانب سے 2011ء میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق، بھارت میں گذشتہ تین عشروں میں 12 ملین لڑکیوں کو ناجائز طور پر اسقاط ِحمل کے ذریعے مار دیا گیا۔ اس کے بعد، بھارت میں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 918 لڑکیاں تھیں، جبکہ 1981ء میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی شرح 962 تھی۔

XS
SM
MD
LG