رسائی کے لنکس

پاکستان کو امریکی ایف 16 طیاروں کی فروخت پر بھارت 'مایوس'


ترجمان ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

ترجمان ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت، امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایسے اسلحے کی فراہمی انسداد دہشت گردی میں مددگار ہوگی۔

بھارت نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کو تقریباً ستر کروڑ ڈالر مالیت کے آٹھ ایف سولہ لڑاکا طیارے اور دیگر جدید فوجی سازو سامان فروخت کرنے کی منظوری دی تھی اور پینٹاگان کے مطابق "اسلحے کی اس مجوزہ فروخت سے پاکستان کے موجودہ اور مستقبل کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔"

تاہم ہفتہ کو بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ "اوباما انتظامیہ کی طرف سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کی منظوری پر ہمیں مایوسی ہوئی۔"

ان کا کہنا تھا کہ بھارت، امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا کہ ایسے اسلحے کی فراہمی انسداد دہشت گردی میں مددگار ہوگی۔

" اس ضمن میں گزشتہ کئی سالوں کا ریکارڈ خود ہی اپنا آپ بیان کرتا ہے۔"

ترجمان کے بقول نئی دہلی میں امریکی سفیر کو وزار خارجہ طلب کر کے ان سے بھارتی ناراضی کا اظہار کیا جائے گا۔

پاکستان کی طرف سے تاحال اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن وہ یہ کہتا آیا ہے کہ وہ خطے میں اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہے لیکن وہ اپنی کم ازکم دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

بھارت اور پاکستان خطے کی دو ہمسایہ ایٹمی قوتیں اور روایتی حریف ہیں۔

امریکہ کے بھارت کے ساتھ بھی دفاعی تعلقات میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جب کہ گزشتہ سال ہی محکمہ دفاع میں ایک خصوصی مرکز قائم کیا گیا تھا جس کے تحت دونوں ملکوں کے مابین جدید ترین عسکری سازو سامان کی مشترکہ تیاری اور دیگر امور کو ریز کرنے پر توجہ دی جانی ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جون 2014ء سے ملک کے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک 3400 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ لڑاکا طیاروں کی مدد سے بھی شدت پسندوں اور ان کےٹھکانوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

پاکستان کے فضائی بیڑے میں ایف سولہ طیاروں کے علاوہ فرانسیسی میراج اور چین کے اشتراک سے مقامی سطح پر تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر طیارے بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG