رسائی کے لنکس

بھارت میں اس سال چاول اور گندم کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اجناس ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات نہ ہونے کے باعث غذائی اجناس کی بڑی مقدار ضائع ہوسکتی ہے۔

ماہرینِ زراعت کاکہنا ہے کہ سال کے وسط تک بھارتی کاشت کار 250 ملین میٹرک ٹن گندم اور چاول کی کٹائی کریں گے۔ ان اہم غذائی اجناس کی اتنی بڑی پیداوار بھارتی حکام اور عوام کے لیے باعثِ مسرت ہونی چاہیے لیکن حکام کو اس ریکارڈ کاشت نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔

بھارت میں غذائی اجناس کا ذخیرہ کرنے والے سرکاری ادارے 'فوڈ کارپوریشن آف انڈیا' نے وزارتِ خوراک کو مطلع کیا ہے کہ اس کے پاس نہ تو اتنی بڑی مقدار میں اجناس کے ذخیرے کے لیے گودام موجود ہیں اور نہ ہی اس کے انتظام کے لیے درکار افرادی قوت دستیاب ہے۔

بھارتی حکومت ہر برس کسانوں سے لاکھوں ٹن اجناس خرید کے سرکاری گوداموں میں ذخیرہ کرتی ہے۔ اس عمل کا مقصد کسانوں کو اپنی پیداوار کے عوض بہتر معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا، کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے لیے خوراک محفوظ کرنا اور 'فوڈ سبسڈی' کے منصوبوں کے لیے درکار اجناس کا انتظام کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس برس ریکارڈ پیداوار کی بدولت حکومت کو 75 ملین ٹن غذائی اجناس خریدنا ہوں گی لیکن سرکاری گوداموں میں اجناس کے ذخیرے کی گنجائش صرف 63 ملین ٹن ہے۔

اس تنگی کے باعث حکومت کو کئی ملین ٹن اجناس کھلے آسمان تلے رکھنی ہوں گی جس کے باعث اجناس کے بارشوں سے خراب ہونے اور کیڑوںکا شکار ہونے کا امکان بڑھ جائے گا۔

'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِ خوراک کے وی تھامس نے بتایا کہ ان کی حکومت گوداموں میں پہلے سے موجود ذخیرے کو کم کرکے نئی فصلوں کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہی انتظامات کے تحت بھارتی حکومت نے تاجروں کو اجناس کے اضافی ذخیرے بیرونِ ملک برآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے جب کہ گوداموں کے ذخیرے کی گنجائش بھی بڑھائی جارہی ہے۔

لیکن مقامی سماجی کارکنان کا موقف ہے کہ اصل مسئلہ ذخیرے کی گنجائش بڑھانا نہیں بلکہ غذائی قلت کا شکار 20 کروڑ بھارتی باشندوں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ہے ۔

اقوامِ متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے افراد بھارت میں ہیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بھارت اتنی خوراک پیدا کرتا ہے جو اس کی کل آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن ایک اندازے کے مطابق غذائی اجناس کی کل پیداوار کا لگ بھگ سات فی صد ذخیرے کی گنجائش نہ ہونے اور نقل و حمل کی نامناسب سہولیات کے باعث ضائع ہوجاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG