رسائی کے لنکس

دریائے گنگا اور جمنا کے حقوق زندہ انسان کے برابر: بھارتی عدالت


واراناسی میں دریائے گنگا کا ایک کنارہ

اترکھنڈ کی ہائی کورٹ نے تین عہدیداروں پر مشتمل ایک نگران کمیشن بھی مقرر کیا ہے جو دریائے گنگا اور جمنا اور ان کی معاون ندیوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہو گا۔

بھارت کی ایک عدالت نے دریائے گنگا اور جمنا کو ایسے ہی قانونی حقوق دینے کا حکم صادر کیا ہے جیسے کہ زندہ انسانوں کے لیے ہوتے ہیں۔

ریاست اترکھنڈ کی ہائی کورٹ نے پیر کو اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر کوئی دریا کو آلودہ کرتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے تو اسے کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہی تصور کیا جائے گا۔

یہ دونوں دریا ہندوؤں کے لیے انتہائی مقدس ہیں۔

عدالت کے سامنے یہ معاملہ حکام کی ان شکایات کے بعد اٹھایا گیا کہ دریائے گنگا کے تحفظ کے لیے پینل کی تشکیل میں اتر کھنڈ اور پڑوسی ریاست اترپردیش وفاقی حکومت سے تعاون نہیں کر رہیں۔

نینتال میں واقع اترکھنڈ کی ہائی کورٹ نے تین عہدیداروں پر مشتمل ایک نگران کمیشن بھی مقرر کیا ہے جو دریائے گنگا اور جمنا اور ان کی معاون ندیوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہو گا۔

ججز نے اس ضمن میں نیوزی لینڈ کے وانگانوئی دریا کی مثال کو سامنے رکھا جو ہزاروں سال پرانے مقامی ماؤری لوگوں کے لیے محترم ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی نیوزی لینڈ کی حکومت نے اس دریا کو مکمل انسانی قانونی حقوق تفویض کیے تھے۔

بھارتی عدالت کے جج راجیو شرما اور آلوک سنگھ کا کہنا تھا کہ دریائے گنگا اور جمنا اور ان کی معاون ندیوں کو "قانونی اور زندہ قرار دیا جاتا ہے جنہیں ایک قانونی شخص کے طور پر حقوق و فرائض اور واجبات کی حیثیت حاصل ہوگی۔"

عدالت نے گنگا مینیجمنٹ بورڈ کو تشکیل دے کر تین ماہ میں کام شروع کرنے کا حکم بھی سنایا۔

ماحولیات سے متعلق سرگرم کارکنان یہ کہتے ہیں کہ قوانین کے موجود ہونے کے باوجود بھارت کے بہت سے دریا ملک کی تیز رفتار ترقی، شہروں کے فضلے، صنعتی شعبے کی مضر باقیات اور کسانوں کی طرف سے زہریلی دواؤں کے استعمال سے آلودہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دریائے جمنا کے پانی کو کیمیائی طور پر صاف کرنے کے بعد دہلی کی تقریباً ایک کروڑ نوے لاکھ آبادی کو پینے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG