رسائی کے لنکس

سونے کی قیمتوں کا ریکارڈ اضافہ بھارتی خریداروں پر بے اثر

  • انجنا پسریچا

سونے کی قیمتوں کا ریکارڈ اضافہ بھارتی خریداروں پر بے اثر

سونے کی قیمتوں کا ریکارڈ اضافہ بھارتی خریداروں پر بے اثر

سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باوجود بھارت میں اس کی خریداری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بھارت کا شمار سونے اور قیمتی دھاتوں کی دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کے طور پر کیا جاتا ہے۔ اب جب کہ بھارت میں اہم مذہبی تہواروں اور شادیوں کا موسم شروع ہوچکاہے، صرافہ مارکیٹوں میں خریداروں کا ہجوم بڑھتا جارہاہے۔ اور اس سال مہنگائی کے باوجود ماضی سے زیادہ خریداری دکھائی دے رہی ہے۔

55 سالہ آرکے گرج اور ان کی اہلیہ نئی دہلی کے قریب واقع سرگاؤں کے گولڈ سوک مال میں سونے کی بالیوں کی خریداری کر رہی ہیں۔ پچھلے سال کے مقابلے میں، جب انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے سونے کے زیوارت خریدے تھے، اب قیمتیں 25 فی صد زیادہ ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بالیوں کی ایک اور جوڑی خریدنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ شادی کی پہلی سالگرہ پر ہمیں اپنی بیٹی کو کوئی نہ کوئی تحفہ تو دینا ہے۔

یہ صرف ایک گرج کا مسئلہ نہیں ہے، بھارتی معاشرے میں اہم تقریبات پر قریبی رشتے داروں کو سونے کے تحائف دینے کی روایت موجود ہے، اور چاہے قیمتیں کچھ بھی ہوں ، لوگ رسمیں نبھانے کے لیے سونے کی خریداری کرتے ہیں۔

اگرچہ سونے کی قیمتیں 1340 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر ہیں ، مگر شادی بیاہ اور دوسری تقریبات کے موقع پرسونے کے تحائف دینے کی صدیوں پرانی روایت اور تقریبات کے دوران اس کی خریداری بھارت میں سونے کی مارکیٹ کی گہماگہمی قائم رکھے ہوئے ہے۔

پچھلے سال اقتصادی بحران اور خشک سالی کے باعث سونے کی طلب کم ہوئی تھی ، مگر بھارتی تیز تر ترقی ا ور اس سال مون سون کے موسم میں اچھی بارشوں سے زرعی شعبے سے وابستہ افراد کی آمدنیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اب جب کہ شادیوں اور دیگر اہم تقریبات کا موسم آرہاہے، سنار خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نئے اور دلکش ڈیزائنوں کے زیورات بنانے میں مصروف ہیں۔

گولڈ سوک مال میں راجندر بھولا جیولر کی دکان خریداروں سے بھری ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شادی بیاہوں کے لیے زیوارات کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی اور ایک ارب سے زیادہ آبادی رکھنے والے ایک ایسے ملک میں جہاں دو تہائی افراد کی عمریں 30 سال سے کم ہیں ، شادیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

آبادی میں اضافے اور پھر شادیاں اور پھر بہت بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے، مثلاً بھارت میں تمام خواتین سونے کی ایک چین، بالیاں اور چوڑیاں پہنتی ہیں ، لوگوں کو زیورات خریدنے پڑتے ہیں۔

مگر صرف معاشرتی روایات ہی سونے کی طلب کو برقرار رکھے ہوئے نہیں ہیں۔ ممبئی میں قائم ورلڈ گولڈ کونسل کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر غیور شاہ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے نے صدیوں پرانی اس سوچ پھر سے تقویت دی ہے کہ سونا ہرزمانے کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔

یہ نظریہ بھی کہ سونا ایک اچھی سرمایہ کاری ہے، سونے کی سکوں اور سونے کی سلاخوں کی خریداری میں اضافے کا ایک سبب بن رہاہے۔ اور سونے کی خریداریاں صرف شہروں کے مہنگے مراکز میں ہی نہیں ہورہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے جہاں اپنا سرمایہ محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع تک مثلاً بینکوں اور اسٹاک مارکیٹوں تک رسائی محدود ہے۔ ملک میں سونے کی خرید میں دیہی علاقوں کا حصہ دوتہائی ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سونے کی طلب میں اضافے کے پیچھے بھارت اور چین کی ترقی کرتی ہوئی معیشتیں ہیں۔

بھارت میں سونے کی مانگ میں اکتوبر سے اپنے عروج پر ہے، یہ وہ مہینہ ہے جب یہاں ہندوؤں کے اہم تہوار دسہرہ اور دیوالی کی تقریبات ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد آنے والے مہینوں کو شادیوں کے موسم کی وجہ سے سونے کی خرید کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG