رسائی کے لنکس

بھارتی حکومت بدعنوانی کے خاتمے میں مخلص نہیں، ہزارے


بھارتی حکومت بدعنوانی کے خاتمے میں مخلص نہیں، ہزارے

بھارتی حکومت بدعنوانی کے خاتمے میں مخلص نہیں، ہزارے

بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے وزیراعظم من موہن سنگھ کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھارت میں پھیلی ہوئی بدعنوانی کے خاتمے میں مخلص نہیں۔

بدھ کو اپنی بھوک ہڑتال کے نوویں روز حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ہزارے نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ وہ پارلیمان کی جانب سے 30 اگست تک اپنا تجویز کردہ انسدادِ بدعنوانی کا قانون منظور نہ کرنے کی صورت میں اپنی بھوک ہڑتال کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھیں گے۔

ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے دارالحکومت نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں 74 سالہ بھارتی سماجی کارکن کی جانب سے کی جانے والی اس بھوک ہڑتال سے متاثر ہوکر بھارت بھر میں بدعنوانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

مسئلے پر غور کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے ایک کل جماعتی اجلاس بدھ کو منعقد کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل انا ہزارے کے معاملے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باعث گزشتہ روز بھارتی پارلیمان کی کارروائی بھی ملتوی کردی گئی تھی۔

بھارت کے وزیرِقانون سلمان خورشید نے منگل کو انا ہزارے کے ایک معاون سے مختصر ملاقات بھی کی تھی تاہم اس میں تنازع کے حل کی جانب بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

وزرِاعظم من موہن سنگھ کی جانب سے انا ہزارے کو ایک خط بھی تحریر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بزرگ سماجی کارکن سے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت انسدادِ بدعنوانی کے سخت قانون کی منظوری کےلیے پارلیمان پر دباؤ ڈالے گی۔

اپنے خط میں بھارتی وزیرِاعظم نے انا ہزارے کی گرتی ہوئی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم انا نے ڈاکٹروں کی جانب سے نلکیوں کے ذریعے خوراک فراہم کرنے کی پیشکش رد کردی ہے۔ سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال کے باعث ان کا چھ کلو گرام وزن کم ہوچکا ہے تاہم ان کے بقول ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔

ہزارے خود کو بھارت کو برطانوی راج سے آزادی دلانے والے رہنما موہن داس گاندھی کا پیروکار قرار دیتے ہیں جو عدم تشدد پر یقین رکھتے تھے۔ انا کا کہنا ہے کہ بھارت میں بدعنوانی کے خلاف جاری جنگ دوسری جنگِ آزادی میں تبدیل ہوچکی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی حکمران جماعت کانگریس نے پارلیمان کے سامنے ایک قانون کا مسودہ پیش کیا تھا جس کے تحت ایک ایسے شہری ادارے کا قیام تجویز کیا گیا ہے جو حکومتی وزراء اور افسر شاہی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرسکے گا۔ تاہم ہزارے اس بل کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کر رہے ہیں کہ مجوزہ قانون کے دائرہ اختیار سے وزیرِاعظم اور عدلیہ کو باہر رکھا گیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے گزشتہ ایک برس کے دوران اعلیٰ حکام کی کرپشن کے کئی اہم اسکینڈلز بے نقاب کرنے کے باعث ملک میں سرکاری سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی کے خلاف عوامی غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG