رسائی کے لنکس

حزب المجاہدین کے مبینہ دہشت گرد کی گرفتاری، متضاد دعوے

  • سہیل انجم
  • نئی دہلی

فائل

فائل

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار دہشت گرد نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوا تھا۔ اُس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔ وہ بھارتی کشمیر کے کُپواڑہ علاقے کا رہنے والا ہے۔ پولیس کے مطابق، حزب المجاہدین نے افضل گورو کی پھانسی کا انتقام لینے کی تیاری کی تھی

حزب المجاہدین کےایک مبینہ دہشت گرد لیاقت علی شاہ کی گرفتاری سےپیدا شدہ تنازع ختم ہونے کا نام لے رہا۔ اِس سلسلے میں دہلی اور بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کےمتضاد بیانات کےپشِ نظر، وزراتِ داخلہ اِس معاملے کی جانچ کا حکم دی سکتی ہے۔

سکریڑی داخلہ آر کے شِنڈے نےایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے متضاد بیانات کی چھان بین کی جائے گی اور اگر ضروری ہوا تو اِس پورے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے 22مارچ کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ اُس نےحزب المجاہدین کے ایک دہشت گرد لیاقت علی شاہ کو گورکھ پور سے گرفتار کیا ہے اور جامع مسجد دہلی کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس سے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اشیا ٴلیاقت کے لیے تھیں اور حزب المجاہدین نے ہولی کے تہوار کے موقع پر دہلی میں خطرناک دہشت گردانہ کارروائیوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار دہشت گرد نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوا تھا۔ اُس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔ وہ بھارتی کشمیر کے کُپواڑہ علاقے کا رہنے والا ہے۔ پولیس کے مطابق، حزب المجاہدین نے افضل گورو کی پھانسی کا انتقام لینے کی تیاری کی تھی۔

لیکن، کشمیر کی پولیس نے فوری طور پر دہلی پولیس کے دعوے کی تردید کردی۔ اُس نے لیاقت علی کے اہل خانہ کے اِس دعوے کی تائید اور حمایت کی ہے کہ لیاقت علی ایک سابق دہشت گرد ہے اور اُس نے بھارت نیپال سرحد پر سنولی چیک پوسٹ پر جو کہ گورکھ کے قریب ہے سرحدی حفاظتی دستے، ایس ایس پی کے سامنے ’سرینڈر‘ کیا تھا۔ بھارتی کشمیر کی حکومت کے ذریعے چلائے جانے والےآبادکاری کے منصوبے کے تحت لیاقت علی ایک گروپ کے ساتھ پاکستانی کشمیر سے بھارت آرہا تھا اور وہ کپواڑہ جارہا تھا۔

کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی دہلی پولیس کے دعوے کی تردید کی ہے اور اِس سلسلے میں وزیر داخلا سشیل کمارشِنڈے سے بات کی ہے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ اِس پورے معاملے کی قومی تحقیقاتی ایجنسی سے جانچ کرائی جائے۔رپورٹوں کے مطابق، 2011ء ،ہٕ 150اور 2012ء میں 115سابق دہشت گرد نیپال کے راستے بھارتی زیر انتظام کشمیر پہنچ چکے ہیں۔

لیاقت علی اور اُس کے اہل خانہ نےبھی آبادکاری کے لیے درخواست دی تھی اور کپواڑہ کے پولیس کے رجسٹر میں 74ویں نمبر اُس کا نام درج ہے۔ لیاقت علی کی اہلیہ اختر النساٴ نے کپواڑہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اِس بارے میں تفصیلات بتائیں اور کہا کہ وہ لوگ اپنی گونگی بہری بیٹی کی خاطر واپس آئے ہیں۔

اخترالنساٴ نےمزید بتایا کہ وہ لوگ پہلےکراچی سےنیپال آئے اور نیپال سےسنولی کے راستے گورکھ پور پہنچے۔ گورکھ پور میں سادہ لباس میں ملبوس پولیس والوں نےلیاقت کو گرفتار کرلیا اور اُن لوگوں کو کشمیر بھیج دیا۔ لیکن، دہلی پولیس اب بھی اپنے دعوے پر قائم ہے کہ لیاقت علی حزب المجاہدین کا دہشت گرد ہے اور دہلی میں دہشت گردانہ واردات انجام دینے لیے آرہا تھا۔
XS
SM
MD
LG