رسائی کے لنکس

جنوبی ایشیا غربت کے خاتمے کی مشترکہ کوششیں کرے: مودی


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک سے نسلی فسادات کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اتحاد اور امن سے ہی بھارت ترقی کر سکتا ہے۔

بھارت کے 68 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جمعہ کی صبح دہلی کے لال قلعہ پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے تمام ممالک مشترکہ کوششوں سے مل جل کر یہاں سے غربت کا خاتمہ کریں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملک سے نسلی فسادات کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اتحاد اور امن سے ہی بھارت ترقی کر سکتا ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ اگر لوگ ماضی پر نظر ڈالیں تو ان کو معلوم ہو گا کہ اس طرح کی تفریق سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کو ختم کریں کیونکہ یہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سے غربت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بھارت میں لوگوں کی اکثریت کی آمدن 2 ڈالر یومیہ سے بھی کم ہے۔

مودی نے ملک کے سرکاری اداروں میں ہونے والی لڑائی اور اختلاف پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " میں نے دیکھا ہے کہ ایک حکومت میں درجنوں حکومتیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک کی اپنی جاگیر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھی طرز حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مودی ملک میں معاشی بہتری لانے کے انتخابی وعدے کے بنا پر انتخاب جیت کر اقتدار میں آئے ہیں جب کہ سابق حکومت کو بدعنوانی اور سست معاشی ترقی کے الزامات کا سامنا رہا۔

دوسری طرف بھارتی صدر پرناب مکھرجی نے یوم آزادی کے موقع پر کہا کہ اب ملک میں معاشی ترقی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نے ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عوام مشترکہ طور پر مل کر اس کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا لیکن انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی سماجی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنے بیٹوں کو بھی اچھے اور برے کی تمیز سکھائیں۔

بھارت میں گزشتہ کچھ سالوں سے خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر خواتین کے حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کی وہ ان واقعات کو روکنے کے لیے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے۔

XS
SM
MD
LG