رسائی کے لنکس

بھارت: ’آن لائن شاپنگ‘ کے رجحان میں اضافہ

  • انجنا پسریجا

بھارت میں اس وقت دو کروڑ آن لائن صارفین ہیں جو انٹرنیٹ پر کپڑے، جیولری، جوتے، الیکٹرانکس اور بیوٹی پروڈکٹس کی خریداری کرتے ہیں۔

بھارت کا شمار دنیا کے ان ممالک میں بآسانی کیا جا سکتا ہے جہاں آن لائن شاپنگ کرنے کا رواج جڑ پکڑ رہا ہے۔ لوگوں کو کمپیوٹر پر چیزیں خریدنا بہت آسان لگتا ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں بھارت کی ای کامرس مارکیٹ میں چار سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

بات ہو جیولری کی ہو، ہینڈ بیگز کی یا پھر گھڑیوں کی ۔۔۔ تیس سالہ شویتا اینڈریوز کو اب چیزوں کی خریداری کے لیے سٹورز اور شاپنگ مال نہیں جانا پڑتا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے دفتری اوقات مشکل ہیں اور اسی لیے انہیں مناسب لگتا ہے کہ وہ تمام خریداری کمپیوٹر پر ہی کر لیں۔ گذشتہ بہت سالوں سے بھارت میں بہت سی ایسی ویب سائیٹس کھلی ہیں جو انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کرتی ہیں۔

شویتا کہتی ہیں، ’’مجھے یہ بہت پسند ہے۔ اپنی مصروفیات میں سے صرف پندرہ منٹ نکالیے اور آپ جو بھی خریدنا چاہتے ہیں اس ویب سائیٹ پر جائیے اور بس خرید لیجیئے۔‘‘

ای کامرس ابھی بھی بھارت کی پانچ سو ارب ڈالر مارکیٹ کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ لیکن انٹرنیٹ پر خریداری کا رجحان نوجوانوں میں بہت مقبول ہوتا جا رہا ہے جن کا بہت سا وقت انٹرنیٹ پر صرف ہوتا ہے۔

بھارت میں اس وقت دو کروڑ آن لائن صارفین ہیں جو انٹرنیٹ پر کپڑے، جیولری، جوتے، الیکٹرانکس اور بیوٹی پروڈکٹس کی خریداری کرتے ہیں۔ ان صارفین کی بڑی تعداد بڑے شہروں میں رہتی ہے۔

خرید و فروخت کی ایک ویب سائیٹ کے سربراہ کنال بہل کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ پر صارفین کو اپنی ویب سائیٹ پر راغب کرنے کے لیے انہوں نے ’ڈسکاؤنٹ کوپن‘ دینے کا سلسلہ شروع کیا جس کے بعد ان کی ویب سائیٹ پر خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔ ان کے الفاظ، ’’ہم نے ’ڈسکاؤنٹ کوپن‘ کا اپنی سیل پر فوری اثر دیکھا۔ جو سیل پہلے ہم تین ماہ میں کرتے تھے اتنی خریداری لوگوں نے پہلے ہفتے میں ہی کر ڈالی۔‘‘

بہل کہتے ہیں کہ 2015 تک ان کی ویب سائیٹ پر خرید و فروخت ایک ارب ڈالر تک چلی جائے گی۔

لیکن ویب سائیٹس پر خریداری میں اضافے سے آن لائن کاروبار کرنے والوں کے مسائل میں کمی نہیں لائی جا سکتی۔ ابھی بھی انٹرنیٹ پر بہت سی کمپنیوں کا کاروبار منافع میں نہیں جا رہا۔

اس کے باوجود انٹرنیٹ پر کاروبار اور مارکیٹ میں اضافے کی شرح سترہ فیصد سالانہ ہے۔ جس سے زیادہ سے زیادہ کاروباری شخصیات انٹرنیٹ پر کاروبار کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں لوگوں میں انٹرنیٹ پر شاپنگ کرنے کا رجحان فروغ پائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے بہت سے شہروں میں ابھی سپرمارکیٹس یا مالز کی سہولت نہیں ہے جن کی وجہ سے بھی لوگ انٹرنیٹ سے شاپنگ کرنے کی طرف راغب ہوں گے۔

راہل جگتیانی ویب سائیٹ پر تحفے کے طور پر دئیے جانے والے آئٹمز بیچتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’پہلے پہل لوگوں کو یہ لگتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے کاروبار چلانا ناممکن سی بات ہے۔ لیکن گزرتے وقت نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ آپ چیز کو چھو کر محسوس نہیں کر سکتے لیکن میرے خیال میں اگر آپ نے چیزوں کی اچھی طرح سے تصویر کھینچ کر اسے انٹرنیٹ پر لگایا ہو تو پھر یہ مسئلہ بہت آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس وقت بھارت کی کل آبادی دو ارب بیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جس میں سے دو تہائی پینتیس برس سے کم عمر لوگ ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہ لوگ ای کامرس کو نئی بلندیوں پر لے کر جائیں گے اور بھارت میں ای کامرس کی مارکیٹ جو ابھی سالانہ دس ارب ڈالر کے قریب ہے اگلے سات سالوں میں ستر ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
XS
SM
MD
LG