رسائی کے لنکس

ایران کو ادائیگی، انڈیا میں نئے طریقوں پر غور

  • انجنا پسریچا

ایران کو ادائیگی، انڈیا میں نئے طریقوں پر غور

ایران کو ادائیگی، انڈیا میں نئے طریقوں پر غور

امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے ایران پر پابندیاں سخت کرنے کے بعد اب انڈیا ایران کو تیل کی قیمت ادا کرنے کے نئے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ ایشیائی ملکوں پر دباؤ ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد کم کریں لیکن انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ صرف اقوام متحدہ کی لگائی ہوئی پابندیوں پر عمل کرے گا، ان پابندیوں پر نہیں جو انفرادی ممالک یا ملکوں کے کسی گروہ نے لگائی ہیں۔

انڈیا کی تیل کی ضروریات کا 12 فیصد اس وقت ایران سے درآمد ہونے والا تیل پورا کرتا ہے۔

پٹرولیم منسٹر جے پال ریڈی کے مطابق انڈیا کی کوشش ہے کہ ایران سے زیادہ سے زیادہ تیل خریدا جائے کیونکہ ایران انہیں بہت آسان شرائط پر تیل فراہم کرتا ہے اور قیمت کی ادائیگی میں مشکلات پیدا ہونے کے باوجود تنگ نہیں کرتا۔

گزشتہ ایک برس کے دوران امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کی وجہ سے انڈیا کے لیے ایران کو تیل کی قیمت ادا کرنے میں مشکلات حائل رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک انڈین وفد نے تہران کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ممالک کے درمیان تیل کی تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔

گزشتہ جولائی سے نئی دلّی نے ایک ترک بینک کے ذریعے ایران کو ادائیگی کا طریقہ اپنایا ہے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے نئی پابندیوں کے بعد اس طریقہ کار میں مشکلات آ سکتی ہیں۔

چنانچہ اب جن طریقوں پر غور ہو رہا ہے ان میں کیش کی جگہ ایران میں انفراسٹرکچر پراجیکٹ بنانا بھی شامل ہے۔

چین، جاپان، انڈیا اور جنوبی کوریا جیسے ایشیائی ممالک ایران کے تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔

XS
SM
MD
LG