رسائی کے لنکس

بھارت: نابالغ ملزمان کی عمر کی حد میں کمی کا قانون منظور


دہلی

دہلی

پارلیمنٹ نے یہ نیا بل عوامی سطح پر قانون میں تبدیلی کے لئے امڈ پڑنے والے احتجاج  کے بعد متعارف کر ایا ہے ۔

بھارتی اراکین پارلیمنٹ نے 2012ء میں دہلی میں ایک بس کے اندر ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعہ میں ملوث نوعمر مجرم کی رہائی کے بعد سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کی عمر کی حد میں مزید کمی کے قانون کی منظوری کے لئے رائے شماری میں حصہ لیا۔

پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے سنگین جرائم میں ملوث نوعمر مجرموں کی عمر کی حد اس تبدیلی کی منظوری منگل کو دیدی جس کے تحت زنا بالجبر اور قتل سمیت تمام سنگین جرائم میں ملوث 16 سے 18 سال کی عمر کے لڑکوں کو بھی کم از کم سات برس قید سخت کی سزا دی جاسکے گی۔

پارلیمنٹ نے یہ نیا بل عوامی سطح پر قانون میں تبدیلی کے لئے شروع ہونے والے احتجاج کے بعد متعارف کر ایا۔ یہ احتجاج دہلی کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس بات کی وضاحت کے بعد ہوا تھا کہ 2012 ء کے اجتماعی زنا بالجبر کے واقعہ میں ملوث نوعمر مجرم کی رہائی میں قانون کے تحت مزید تاخیر ممکن نہیں تھی۔

تفصیل کے مطابق، میڈیکل کی طالبہ جوئیتی سنگھ اس وحشیانہ حملے میں اس وقت ہلاک ہوئی جب 2012ء میں بس میں سفر کے دوران چھ لڑکوں نے ان پر مجرمانہ حملہ کیا۔ ۔پولیس کے مطابق، حملہ آور اس وقت محض 17 سال کا تھا لیکن اس نے نہایت وحشیانہ انداز میں متاثرہ لڑکی کو پہلے سلاخوں سے بری طرح مارا پیٹا اور پھر گھناؤنی واردات کا حصہ بنا۔

اس نوعمر مجرم کو جو اس وقت 20 برس کا ہے، تین برس تک اصلاحی گھر میں خدمات انجام دینے کی سزا دے کر اتوار کو رہا کر دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG