رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں صورتحال بدستور کشیدہ،دہلی میں سیاسی جماعتوں کا اجلاس


بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نیو دلی میں جمو اور کشمیر کے مسئلے پر بدھ 15 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے۔ پی آئی بی، انڈیا

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نیو دلی میں جمو اور کشمیر کے مسئلے پر بدھ 15 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے۔ پی آئی بی، انڈیا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حکومت مخالف مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد علاقے میں حالات بدستور کشید ہ ہیں اور بدھ کو مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

وادی کی صورت حال پر غور کے لیے بدھ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں وزیراعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کے قائدین کا اجلاس ہوا جو اطلاعات کے مطابق بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگیا۔ اجلاس میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی شریک تھیں۔

اطلاعات کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس کے ایجنڈے پر کشمیر میں بھارتی فو ج کے خصوصی اختیار”آرمڈ فورسز سپیشل پاورایکٹ“پر بات چیت سرفہرست تھی ۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی اس ایکٹ میں تبدیلی کے حق میں نہیں ہے۔ بھارتی کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اُن علاقوں سے فوج کی واپسی چاہتے ہیں جہاں کشمیریوں کی علیحدگی پسندتحریک میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بھارتی کشمیر میں پیر کے روز سے مظاہروں کا نیا سلسلہ شروع ہو ا تھا۔ مظاہرین نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے علاوہ حفاظتی دستوں پر بھی حملے کیے۔ حفاظتی دستوں کی طرف سے مظاہرین پرگولی چلانے کے واقعات میں اس ہفتے ہلا ک ہونے والوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ جب کہ کشمیر کے اس حصے میں گذشتہ تین ماہ کے دوران فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 95 ہو چکی ہے اور اس دوران چالیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی کشمیر کی موجودہ صورت حال کے تناظر میں اپنے مستعفی ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ دے کر کشمیر ی عوام کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔

پاکستان نے بھارتی کشمیر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ منگل کو ایک سرکاری بیان میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ تشدد کی بجائے ضبط کامظاہرہ کرے۔

XS
SM
MD
LG