رسائی کے لنکس

کرفیو کے باعث سری نگر سے آج دوسرے دِن بھی کوئی اخبار شائع نہیں ہوسکا

  • یوسف جمیل

پانچ صحافتی انجمنوں نے اخبارات کی اشاعت فی الحال ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ اُن کے مطابق اخبارات کے دیگر عملے اور متعلقین کو کرفیو پاس سے محروم رکھا گیا ہے جب کہ نئی دہلی سے آنے والے صحافیوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور اُن کے ذریعے کشمیر کے حالات و واوقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہا ہے

بھارتی کشمیر میں چار دِن سے نافذ کرفیو کے باعث لوگ طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

پولیس فائرنگ اور نوجوانوں کی ہلاکت کے ردِ عمل میں بڑے پیمانے پر ہونے والے عوامی مظاہروں اور تشدد کو دبانے کے لیے لگایا گیا کرفیو آج جمعے کو چوتھے روز بھی سختی کے ساتھ نافذ کیا جارہا ہے، بالخصوص سری نگر میں ہزاروں کی تعداد میں تعینات مسلح پولیس اور نیم فوجی دستے شہریوں کو اپنے مکانوں کی کھڑکیوں سے جھانکنے تک کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ لہٰذا، شہر کی تقریباً 15لاکھ کی آبادی اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کو اشیائے خوردنی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ کئی شہریوں نے وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا کہ اُنھیں بیماروں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت نہیں ۔ سری نگر سے آج دوسرے دِن بھی کوئی اخبار شائع نہیں ہوسکا۔

پانچ صحافتی انجمنوں نے اخبارات کی اشاعت فی الحال ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ اُن کے مطابق اخبارات کے دیگر عملے اور متعلقین کو کرفیو پاس سے محروم رکھا گیا ہے جب کہ نئی دہلی سے آنے والے صحافیوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور اُن کے ذریعے کشمیر کے حالات و واوقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہا ہے۔

تاہم، حکومت نے اِس نکتہ چینی کو بے جا قرار دیا ہے۔

جمعے کو شہر کی جامع مسجد اور شہر کی دوسری بڑی بڑی مساجد میں نمازِ جمع ادا نہیں کی جاسکی۔ وادیِ کشمیر کے کئی دوسرے شہروں میں بھی کم و بیش یہی صورتِ حال رہی۔

XS
SM
MD
LG