رسائی کے لنکس

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں صورت حال بدستور کشیدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق مظاہروں کے بعد اب تک ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے اور مشتعل مظاہرین کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کی خلاف ورزی جاری ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک علیحدگی پسند کشمیری کمانڈر برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے پیر کو بھی بھارتی فورسز کوششوں میں مصروف رہیں۔

تاہم صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق مظاہروں کے بعد اب تک ہلاکتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے اور مشتعل مظاہرین کی طرف سے کرفیو کے نفاذ کی خلاف ورزی جاری ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر ہلاک ہونے والے نوجوان ہیں جن کی عمریں 26 سال سے کم ہیں۔

جب کہ لگ بھگ 150 عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے 90 اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ زخمی ہونے والے عام کشمیریوں میں سے 10 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

پولیس اور نیم فوجی دستوں کا بھارتی کشمیر کے مختلف علاقوں میں گشت جاری ہے۔ پیر کو بھی بیشتر دوکانیں اور کاروبار بند ہیں جب کہ موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔

کشمیر کے بڑے باغی گروپ حزب المجاہدین کے ایک نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہان الدین وانی گزشتہ جمعہ کو بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے تھے، جس کے بعد ہفتہ کے روز سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔

برہان الدین وانی ایک نوجوان باغی کمانڈر تھے اور اُنھوں نے کشمیری نوجوانوں تک رسائی کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کا بھی استعمال کیا، جس کے وجہ سے اُنھیں کافی شہرت ملی۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق پولیس کے انسپکٹر جنرل سید جاوید مجتبیٰ نے وانی کی ہلاکت کو ’’شدت پسندوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔‘‘

کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے اور دونوں ہی ملک پورے کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم اس وقت کشمیر کا ایک حصہ بھارت کے جب کہ ایک حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے۔

کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی عارضی حد بندی لائن ’لائن آف کنٹرول‘ پر بھی دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں لیکن اب صورت حال معمول کے مطابق ہے۔

XS
SM
MD
LG