رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیرمیں مظاہروں کے محرکات

  • روی کھنہ

بھارتی کشمیر میں کرفیو کے دوران تعینات سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)

بھارتی کشمیر میں کرفیو کے دوران تعینات سکیورٹی اہلکار (فائل فوٹو)

بھارتی کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور ان پر پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں بدھ کے روز بھی جاری رہیں۔ اسی روز نئی دہلی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنی میٹنگ میں تین مہینے سے جاری اس بحران کے اسباب پر اور اسے طے کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔

گذشتہ تین مہینوں سے کشمیر کا وہ حصہ جو بھارت کے کنٹرول میں ہے ، ہنگاموں کی لپیٹ میں ہے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکےہیں۔ گذشتہ بدھ کے روزنئی دہلی میں سیاسی پارٹیوں کے ایک اجلاس میں ایک وفد بھارتی کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ وہاں ہنگاموں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

بھارتی کشمیر میں سکیورٹی فورسز اور ان پر پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں بدھ کے روز بھی جاری رہیں۔ اسی روز نئی دہلی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اپنی میٹنگ میں تین مہینے سے جاری اس بحران کے اسباب پر اور اسے طے کرنے کے طریقوں پر غور کیا۔

بھارتی کشمیر میں ہنگامے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ 1989ء کے بعد سے جب مسلمان علیحدگی پسندوں کی تحریک میں شدت پیدا ہوئی ہے، ہنگاموں میں تشدد کا الزام بعض مخصوص عناصر پر لگتا رہا ہے لیکن موجودہ ہنگاموں میں حصہ لینے والے نوجوان کشمیری ان لوگوں سے مختلف ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے Howard Schaffer کہتے ہیں کہ ’’اس بار ہنگاموں میں نوجوان پیش پیش ہیں۔ یہ لوگ خود کو معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں اور اپنے خراب حالات زندگی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر نوجوان اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں اور بے روزگار ہیں۔ بھاری تعداد میں پولیس اور فوج کی موجودگی سے انہیں گھٹن اور ظلم کا احساس ہوتا ہے‘‘۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ (فائل فوٹو)

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ (فائل فوٹو)

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے یہ دیکھ کر شدید دکھ اور صدمہ ہوا ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں میں نوجوان لڑکے، عورتیں، یہاں تک کہ بچے بھی شامل تھے‘‘۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے والٹر اینڈرسن کہتے ہیں کہ اس بار بھارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمسایہ ملک پاکستان، لوگوں کو ہنگامہ آرائی پر اکسا رہا ہے ’’نوجوانوں کی یہ نسل کشمیر میں ہی پلی بڑھی ہے۔ ماضی میں بھارت کی اس دلیل میں تھوڑی بہت صداقت تھی کہ ہنگاموں کی اصل وجہ سرحد پار سے ہونے والی سرگرمیاں تھیں۔ ممکن ہے کہ اب بھی ایسے کچھ عناصر موجود ہوں، لیکن موجودہ تحریک بڑی حد تک اسی سر زمین سے ابھری ہے‘‘۔

وزیراعظم من موہن سنگھ نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کا اعتراف کیا اور گذشتہ سال کے عام انتخابات سے قبل علاقے کے لیے بہت بڑے ترقیاتی منصوبے کا وعدہ کیا۔ لیکن Schaffer کہتے ہیں کہ اس منصوبے کے متوقع نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’گذشتہ برسوں کے دوران اگرچہ بھارت نے کشمیر میں اقتصادی ترقی کے لیے کافی بڑی رقوم دی ہیں، لیکن اقتصادی ترقی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچے ہیں‘‘۔

میرواعظ عمر فاروق علیحدگی پسند تنظیموں کے گروپ، حریت کانفرنس کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں اقتصادی امداد نہیں چاہیئے۔ ہمیں ملازمتیں نہیں چاہئیں۔ ہمیں ترغیبات اور رعایتیں نہیں چاہیئں۔ ہمیں داخلی خودمختار نہیں چاہیئے۔ ہمیں آزادی چاہیئے‘‘۔

نئی نسل کو یہ بات بھی گوارا نہیں کہ کشمیر میں بھارتی فوج کو یہ خصوصی اختیارات حاصل ہوں کہ وہ علیحدگی پسندی کے نام پر جسے چاہے پکڑ لے اور جیل میں ڈال دے۔ اس معاملے کے بارے میں اختلافات نئی دہلی میں تمام سیاسی پارٹیوں کے اجلاس میں سامنے آئے۔ حزبِِ اختلاف کی بھارتیہ جنتا پارٹی فوج کے خصوصی اختیارات ختم کرنے کے خلاف ہے لیکن کشمیری پارٹیوں کی نمائندہ تنظیم اے پی ایچ سی نے یہ شرط عائد کررکھی ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات اسی صورت میں ہوں گے جب یہ خصوصی اختیارات واپس لے لیے جائیں گے۔

کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ کشمیر کے موجودہ بحران کو انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیئے جس میں پیشگی شرائط کی کوئی گنجائش نہیں۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ’’وزیراعظم کو غیر مشروط مکالمے کی پیش کش کرنی چاہیئے۔ علیحدگی پسندوں کی تحریک حریت دوسری فریق بن سکتی ہے۔ انہیں بھی کوئی شرائط عائد نہیں کرنی چاہیئں کیوں کہ ڈائیلاگ ضروری ہے‘‘۔

لیکن محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ اس سے پہلے حکومت کو ان تمام مظاہرین کو رہا کرنا ہوگا جنھیں اس نے جیل میں ڈال رکھا ہے اور کشمیری عوام کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG