رسائی کے لنکس

بھارت: فرضی مقابلے میں تین کشمیریوں کو ہلاک کرنے والے فوجی افسروں پر مقدمہ


بھارت: فرضی مقابلے میں تین کشمیریوں کو ہلاک کرنے والے فوجی افسروں پر مقدمہ

بھارت: فرضی مقابلے میں تین کشمیریوں کو ہلاک کرنے والے فوجی افسروں پر مقدمہ

وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دو روزہ بھارتی کشمیر کے دورے کے آغاز سے ایک دن پہلے سری نگر میں اعلان کیا گیا ہے کہ بھارتی فوج کے ان دو افسروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے جن پر اس سال 30 اپریل کو پیش آنے والے ایک واقعہ میں ملوث ہونے کاالزام ہے۔

پولیس کی تحقیقات کے دوران یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ بارہ مولا کے ایک گاؤں کے تین نوجوانوں کو فوج میں روزگار فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی تھی اور پھر فوج نے انہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کنٹرول لائن پر پہنچا دیا، جہاں پر انہیں ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کرکے یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ مسلمان دہشت گرد تھے اور جھڑپ کے وقت پاکستانی کشمیر سے سرحد عبور کرکے بھارتی کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد بھارتی کشمیر میں حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور حقائق منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کو ملکی اور بین الاقومی سطح پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

سری نگر میں فو ج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اس واقعہ کے اہم ملزم میجر اپندرا کو معطل کردیا ہے ، جب کہ کرنل ڈی کے پٹھانیا کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ دونوں کا تعلق بھارت کی راجپوت رجمنٹ سے ہے۔

مقامی پولیس نے میجر اوپندار اور اس کے ماتحت فوجیوں کو اپنی حراست میں لینے کے لیے اعلی فوجی حکام سے رابطہ کرلیاہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ وہ بھی اپنے طورپر اس واقعہ کی شفاف انداز میں تحقیقات کررہی ہے ۔

بھارتی کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ 30 اپریل کے اس واقعہ نے فوج کے ان دعوؤں کے آگے سوالیہ نشان لگا دیا ہے ، جن میں کنٹرول لائن پر دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کی بات کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG