رسائی کے لنکس

زرعی زمینوں کے صنعتی استعمال کے خلاف بھارت میں ناراضگی اور مزاحمت

  • انجنا پسریچا

بھارت میں جیسے جیسے معیشت ترقی کر رہی ہے، زرعی زمینوں کو صنعتی مقاصد کے لیے حاصل کیا جا رہا ہے ۔ زرعی زمینوں کو صنعتی استعمال میں لانے سے دیہی علاقوںمیں ناراضگی اور مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بھارت کے لیے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

شمالی ریاست اتر پردیش میں پُر تشدد مظاہروں کی وجہ کسانوں کے یہ مطالبات تھے کہ انہیں اس زمین کا زیادہ معاوضہ ادا کیا جائے جو نئی دہلی کو آگرے سے ملانے والی شاہراہ کی تعمیر کے لیے ان سے لے لی گئی ہے ۔آگرہ سیاحت کا مرکز ہے۔ مغلیہ دور کی مشہور عمارت، تاج محل، اسی شہر میں ہے ۔ مظاہروں میں تین کاشتکار ہلاک ہو گئے ۔

ملک بھر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں یا صنعتوں کے لیے زرعی زمینِیں حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے خلاف ملک کے بہت سے حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔

بھارت میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ، کاروباری ادارے فیکٹریوں کی تعمیر کے لیے زمینیں تلاش کر رہے ہیں ۔ تیزی سے پھیلتی ہوئی معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت پر قدیم زمانے کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے جدید بنانے اور زیادہ سڑکیں ، بجلی گھر اور ریلویز تعمیر کرنے کے لیے سخت دباؤ پڑ رہا ہے ۔

جتنی بھی زمینیں دستیا ب ہیں وہ آباد ہیں اور دیہی علاقوں کے زرخیز کھیتوں پر مشتمل ہیں۔ان زمینوں سے کسانوں اور قبائلی آبادیوں کو منتقل کرنا آسان کام نہیں ہے ۔ بعض کاشتکاروں کو شکایت ہے کہ ان کی زمینوں کے لیے دیا جانے والا معاوضہ بہت کم ہے اور انہیں یہ بھی ڈر ہےکہ و ہ اپنی گذر اوقات کے ذریعے سے محروم نہ ہو جائیں۔ بھارت کی ایک ارب سے زیادہ آبادی کا دو تہائی حصہ زمین سے اپنی روزی حاصل کرتا ہے ۔

نئی دہلی میں فورم فار بائیوٹیکنالوجی اینڈ فوڈ سکیورٹی کے دیوندر شرما کہتے ہیں کہ جن کاشتکاروں کی زمینیں لی جاتی ہیں ان سے نئی صنعتوں میں روزگار کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن بیشتر کسانوں کو ان صنعتوں میں ملازمتیں نہیں ملتیں۔بیشتر کسان شہروں میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہوتا ہے ۔ وہ کہتےہیں کہ نئی معیشت اس قسم کا روزگار فراہم نہیں کر سکتی جو بہت بڑی آبادی والے ملک میں کاشتکاری کے ذریعے مل جاتا ہے ۔

شرما کہتے ہیں ’’کوئی بھی صنعت یا صنعتوں کا گروپ اس قسم کے اور اتنی بڑی تعداد میں روزگار فراہم نہیں کر سکتا جن کی بھارت کو ضرورت ہے ۔ایک ایسے ملک میں جہاں کاشتکاروں کی تعداد 60 کروڑ ہے ، جس میں ان کے گھرانے بھی شامل ہیں ، میرے خیال میں کسی صنعت میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ آبادی کے دسویں حصے کو بھی روزگار فراہم کر سکے۔‘‘

تا ہم کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اور بھارت ایک صنعتی ملک بن سکتا ہے ۔

زمین حاصل کرنے میں رکاوٹوں کی وجہ سے سرمایہ کاری اور صنعتوں میں توسیع کی رفتار سست ہوگئی ہے ۔ فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اکانومسٹ انجان رائے کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے اور ایسے جوابات کا متقاضی ہے جن میں دونوں فریقوں کے مفادت کو توجہ دی گئی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک تجویز یہ ہے کہ بے دخل ہونے والی دیہی بستیوں کو نئی صنعتوں میں حصے دار بنا لیا جائے ۔

یہ خیال عام ہے کہ ماؤ نواز باغی جنہیں بھارت کی داخلی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے، دیہی علاقوں میں زمین کے حصول سے متعلق مسائل کی وجہ سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہےہیں۔ ملک میں ان اطلاعات کی وجہ سے کہ مقامی حکام اکثر کاروباری اداروں کے ساتھ ساز باز کر لیتے ہیں تا کہ گاؤں والوں سے ان کی مرضی کے بغیر زمینیں ہتھیائی جا سکیں، ملک میں ناراضگی اور غصے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

غذائی مسائل کے تجزیہ کاروں کو یہ تشویش بھی ہے کہ زمین کے بہت بڑے بڑے ٹکڑے جن پر کاشتکاری ہوتی ہے، صنعتوں کو منتقل کرنے سے، ملک میں غذائی قلت کا بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے اور وہاں غذائی اشیا ء کی قیمتوں میں اضافے سے لاکھوں غریب گھرانوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

بھارت کے وزیرِ مالیات پرنا ب مکرجی نے حال ہیں میں پارلیمنٹ میں کہا کہ صنعت کی مانگ اور بھارت کے دیہی علاقوں کے مطالبات کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہو گا۔’’ہمیں اس بات کویقینی بنانا ہوگا کہ کاشتکاروں کو پریشانی نہ ہو اور ان کے مفادات پر برا اثر نہ پڑے کیوں کہ غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں انتہائی مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔‘‘

بھارتی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ کاشتکاروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے ایک نیا قانون بنانا ضروری ہے ۔ لیکن قانون کے دو مسودے پارلیمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ ان مجوزہ قوانین کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کاشتکاروں کو مارکیٹ کی قیمت کے لحاظ سے ان کی زمین کی قیمت ادا کی جائے ۔ان مسودوں میں متاثر ہونے والے کاشتکاروں کی دوبارہ آباد کاری، روزگار کے مواقع اور تربیت شامل ہے ۔

ترقیاتی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس ان پیچیدہ مسائل پر توجہ دینے کے لیے بہت کم وقت ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ چھوٹے کاشتکاروں کے اس ملک کو جدید معیشت میں ڈھالنے کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر پورا کیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG