رسائی کے لنکس

بھارت میں لیبیا کے سفیر مستعفی


بھارت میں لیبیا کے سفیر مستعفی

بھارت میں لیبیا کے سفیر مستعفی

بھارت میں لیبیا کے سفیر، جنہوں نے اپنے ملک میں مظاہرین کے خلاف حکومت رویے پر استعفیٰ دے دیا تھا، اقوام متحدہ سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔

علی العیساوی ، جو اس ہفتے تک بھارت میں اپنے ملک کے سفیر تھے، اپنی حکومت کی جانب سے دارالحکومت ترپیولی میں عام شہریوں کے گھروں پر جنگی طیاروں سے بمباری پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے متاثرین کی تعداد بڑھے گی۔ یہ ناقابل قبول ہے اور ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔

العیساوی نے حکومتی پکڑدھکڑ کے خلاف پیر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں لیبیا میں موجود ذرائع سے وہاں کی تازہ ترین صورت حال کا پتا چلتا رہاہے۔

انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ لیبیا کے راہنما معمر قدافی ، ملک میں جاری عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے دوسرے افریقی ملکوں سے کرائے کے فوجی بھرتی کررہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ لیبیا میں ہونے والی جھڑپوں میں دو سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

العسیاوی نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس سلسلے میں فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ ان کا کہناتھا کہ لیبیا کے عوام کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کو شہریوں کے خلاف جنگی طیاروں کا استعمال روکنے کا حکم جاری کرنا چاہیے۔

العیساوی کا استعفیٰ ، قدافی حکومت کے خلاف ایشیاء میں تعینات لیبیا کے اعلیٰ سفارتی عہدے داروں کے حکومت سے علیحدگی کے رجحان کی ایک کڑی ہے۔ چین، ملائیشیاء اور آسٹریلیا میں لیبیاکے سفیر پہلے ہی صدر قدافی سے لاتعلقی کا علان کرچکے ہیں۔

العیساوی کا کہناہے کہ ہم خون خرابہ روکنا چاہتے ہیں۔

بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو اپنے شہریوں کو لیبیا کے غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے پر زوردے رہے ہیں۔ بھارت نے لیبیا میں مقیم اپنے 18 ہزار کارکنوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کردی ہے۔

XS
SM
MD
LG