رسائی کے لنکس

مدھیہ پردیش: باپ کو اپنی بیٹی کی لاش سائیکل پر لے جانی پڑی

  • جمیل اختر

مدھیہ پردیش: باپ کو اپنی بیٹی کی لاش سائیکل پر لے جانی پڑی

مدھیہ پردیش: باپ کو اپنی بیٹی کی لاش سائیکل پر لے جانی پڑی

بھارتی معیشت نوفی صد سالانہ کی رفتار سے ترقی کررہی ہے، مگرسی این این ۔ آئی بی این اور دیگر بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسی ملک کے ایک گاؤں کے ایک غریب باشندے بکشو سنگھ کو پوسٹ مارٹم کے لیے اپنی بیٹی کی لاش سائیکل کے کیریئر پر باندھ کر اسپتال لے جانے کے لیے دس کلومیٹر تک پیڈل مارنے پڑے۔
مدھیہ پردیش، بھارت میں ایک غریب کسان اپنی بیٹی کی لاش سائیکل پر رکھ کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جارہا ہے۔ بکشو سنگھ کی بیٹی ایک دوا کی زیادہ مقدار کی وجہ سے فوت ہوگئی اور مقامی پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بغیر اسکی چتا جلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ پو

مدھیہ پردیش، بھارت میں ایک غریب کسان اپنی بیٹی کی لاش سائیکل پر رکھ کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جارہا ہے۔ بکشو سنگھ کی بیٹی ایک دوا کی زیادہ مقدار کی وجہ سے فوت ہوگئی اور مقامی پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بغیر اسکی چتا جلانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ پو

کچھ عرصہ پہلے بھارت کے نسبتا ً ایک چھوٹے شہر اورنگ آباد کے شہریوں نے دنیا کو اپنی خوشحالی اور دولت کی فراوانی کا پیغام دینے کے لیےاجتماعی طور پر ایک ہی دن میں دیڑھ سو مرسیڈیز کاریں خریدنے کا مظاہرہ کیا تھا، جن کی مالیت 65 کروڑ روپے سے زیادہ ہے، اور اسی بھارت کے ایک گاؤں دھمانیہ کے انسپکٹر منوج کدیا کہتے ہیں کہ پولیس کے اپنے پاس کوئی گاڑی نہیں ہے وہ بکشو کی کیا مدد کریں۔

پولیس نے بکشوکوحکم دیا تھا کہ وہ اس وقت تک اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا نہیں کرسکتا جب تک اس کا پوسٹ مارٹم نہ ہوجائے۔

ریاست مدھیہ پردیش کے گاؤں دھمانیہ میں رہنے والے بکشو سنگھ کی 16 سولہ بیٹی کسی زہریلی چیز کھانے سے ہلاک ہوگئی تھی ۔ پولیس نے اس واقعہ کو خودکشی قرار دیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خودکشی کی وجہ غربت تھی یا کچھ اور۔

پولیس کا کہنا تھا کہ قانون پوسٹ مارٹم کے بغیر لاش کی چتا جلانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے بکشو سنگھ پر یہ بھی واضح کردیا کہ اگرچہ پوسٹ مارٹم کرانے کی ذمہ داری پولیس کی ہے مگر چونکہ پولیس کے پاس گاڑی ہے اور نہ ہی کرایے پر گاڑی لینے کے مالی وسائل، اس لیے یہ انتظام بکشو کو خود ہی کرنا ہوگا۔

بعض خبروں کے مطابق کئی علاقوں میں تھانے میں رپورٹ درج کرانے کے لیے درخواست گذار کو کاغذ اور پنسلیں بھی ساتھ لے جانی پڑتی ہیں۔

دھمانیہ گاؤں سے ڈسٹرکٹ اسپتال انوپ پور کا فاصلہ 14 کلومیٹر ہے۔

بکشو سنگھ کے لیے پریشانی یہ تھی کہ اس کے گاؤں میں بھی کوئی گاڑی نہیں تھی اور وہاں استعمال کی جانے والی واحد سواری سائیکل تھی۔ اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ کسی دوسری جگہ سے گاڑی کرائے پر لیتا۔

بکشو کا کہنا تھا کہ بیٹی کی لاش کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے میرے پاس واحد راستہ یہی تھا کہ میں اسے سائیکل پر اسپتال لے جاؤں۔

اس نے بیٹی کی لاش کو اپنے سائیکل کے کیریئر پر باندھا اور شہر کی طرف چل پڑا۔

دس کلومیٹر کا فاصلہ اپنے سائیکل پر طے کرنے کے بعد راستے میں اس کی ملاقات مقامی رکن اسمبلی بساہولال سنگھ سے ہو گئی۔ صورت حال کا علم ہونے پر اس نے ایک ویگن کا انتظام کیا اورپولیس کو یہ کارروائی اپنی نگرانی میں کرانے کی ہدایت کی۔

بھارتی نشریاتی ادارے سی این این۔ آئی بی این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد دھمانیہ میں بکشو سنگھ کی بیٹی کی آخری رسومات ادا کردی گئی ہیں۔

تاہم پولیس ناخوش دکھائی دیتی ہے کیونکہ اسے رکن اسمبلی کی اس معاملے میں مداخلت اچھی نہیں لگی۔

XS
SM
MD
LG