رسائی کے لنکس

بھارت پاک مذاکرات بلا تاخیرشروع کیے جائیں: حکومت سےمسلم تنظیموں کامطالبہ

  • سہیل انجم

بھارت پاک مذاکرات بلا تاخیرشروع کیے جائیں: حکومت سےمسلم تنظیموں کامطالبہ

بھارت پاک مذاکرات بلا تاخیرشروع کیے جائیں: حکومت سےمسلم تنظیموں کامطالبہ

آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ، جمیعت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کا سلسلہ بلا تاخیر شروع کرے تاکہ دونوں ملکوں کے مابین بد اعتمادی اور کشیدگی کو کم کیا جا سکے، اور اِس خطے میں امن کے قیام میں مدد مل سکے۔

اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جو بھی شکایتیں ہیں اُن سب کو بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اُن کے بقول، بات چیت میں جِس قدر تاخیر ہوگی باہمی کشیدگی میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور ماہنامہ ‘افکارِ ملی’ کے مدیر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کے بقول، ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات میں جتنی تاخیر ہوگی اتنی ہی دونوں ملکوں کے درمیان تلخیاں بڑھیں گی ۔ مسئلہ صرف دونوں ملکوں کی تلخیاں بڑھنےکا نہیں ہے کہ اِس سے دونوں ملکوں کے عوام کو تکالیف ہوتی ہیں ۔

اُن کا کہنا تھا کہ غیر معمولی دفاعی اخراجات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے عام آدمی پر اِس کا خراب اثر پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ مذاکرات کو التویٰ میں رکھنا دونوں ملکوں کے عوام کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

اُدھر، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور جمیعت علمائے ہند کے سیکریٹری عبد الحمید نعمانی نے بھی مذاکرات کا سلسلہ فی الفور شروع کرنے پر زور دیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 26/11کی آڑ میں بات چیت کو روکنا نہ تو دونوں ملکوں ، نہ اُن کے عوام اور نہ ہی اِس خطے کے مفاد میں ہے۔ لہذا، بھارت کو چاہیئے کہ وہ مذاکرات کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرے۔

XS
SM
MD
LG